اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت کمیٹی برائے آلو برآمدات کے دوسرے اجلاس میں آلو کی پیداوار، اضافی ذخائر اور برآمدات کی سہولت کاری کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وزارت کے سینئر افسران، صوبائی زراعتی محکموں کے نمائندے، برآمد کنندگان، لاجسٹک کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق …
پاکستان وسطی ایشیائی مارکیٹوں میں آلو کی برآمدات بڑھانے کی راہ ہموار کر رہا ہے، رانا تنویر حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت کمیٹی برائے آلو برآمدات کے دوسرے اجلاس میں آلو کی پیداوار، اضافی ذخائر اور برآمدات کی سہولت کاری کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وزارت کے سینئر افسران، صوبائی زراعتی محکموں کے نمائندے، برآمد کنندگان، لاجسٹک کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جمعہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں متوقع اضافی آلو کی پیداوار کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا اور روایتی و ابھرتی ہوئی برآمدی مارکیٹوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بحث کے دوران برآمدات کے لیے درپیش اہم چیلنجز اجاگر کیے گئے، جن میں بڑھتی ہوئی فریٹ لاگت، لاجسٹک رکاوٹیں، راستوں سے متعلق مسائل اور ٹرانسپورٹرز کے ویزا کی سہولت شامل تھی۔ کمیٹی نے رعایتی فریٹ ریٹس، ریلوے اور لاجسٹک فراہم کنندگان کے ساتھ بہتر رابطہ کاری اور سرحدی تجارت کو آسان بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا۔رانا تنویر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ برآمداتی موقع کو خاص طور پر وسطی ایشیائی مارکیٹوں کے لیے فوری طور پر استعمال کیا جائے تاکہ ملکی فراہمی پر دباؤ کم ہو اور کسانوں کو کم قیمت فروخت سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ زیر التوا امور کو جلد از جلد نمٹائیں، عملی رکاوٹوں کو دور کریں اور اضافی ذخائر کی روانی کو یقینی بنائیں۔
وفاقی وزیر نے حکومت کی جانب سے کسانوں کی حمایت، مارکیٹ کی قیمتوں کو مستحکم کرنے اور مربوط اور وقت کے پابند اقدامات کے ذریعے پاکستان کی زرعی برآمدات کو فروغ دینے کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ عملی حل فوری طور پر نافذ کیے جائیں تاکہ کاشتکاروں کے مفادات محفوظ ہوں اور پاکستان کی علاقائی مارکیٹوں میں پوزیشن مضبوط ہو۔اجلاس کا اختتام اس فیصلے کے ساتھ ہوا کہ برآمداتی رجحانات پر قریبی نگرانی جاری رکھی جائے اور طے شدہ اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے فالو اپ اجلاس بلائے جائیں۔








