پاکستان میں ہر سال قبل از وقت پیدا ہونے والے 10 لاکھ بچوں میں سے 45 فیصد بچوں کو ریٹینوپیتھی آف پری میچیورٹی لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے،ماہر امراض چشم ڈاکٹر امجد

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):شفا آئی ہسپتال سے وابستہ ماہر امراض چشم ڈاکٹر امجد نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 10 لاکھ بچے قبل از وقت پیدا ہوتے ہیں، جن میں سے 45 فیصد تک بچوں کو ریٹینوپیتھی آف پریمچورٹی(آر او پی ) لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ یہ آنکھوں کے پردہ بصارت (ریٹینا) کی ایک سنگین بیماری ہے جو بروقت علاج …

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):شفا آئی ہسپتال سے وابستہ ماہر امراض چشم ڈاکٹر امجد نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 10 لاکھ بچے قبل از وقت پیدا ہوتے ہیں، جن میں سے 45 فیصد تک بچوں کو ریٹینوپیتھی آف پریمچورٹی(آر او پی ) لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ یہ آنکھوں کے پردہ بصارت (ریٹینا) کی ایک سنگین بیماری ہے جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں چند ہفتوں میں مستقل نابینائی کا سبب بن سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق نوزائیدہ بچوں کی بقا کی شرح میں بہتری کے باعث ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو آر او پی کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریٹینا کی خون کی نالیاں حمل کے تقریباً تین ماہ بعد بننا شروع ہوتی ہیں اور مقررہ مدتِ حمل مکمل ہونے پر نشوونما مکمل کرتی ہیں، تاہم قبل از وقت پیدائش اس عمل میں خلل ڈال سکتی ہے جس کے نتیجے میں غیر معمولی خون کی نالیاں بننے لگتی ہیں جو ریٹینا کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ پیدائش کے وقت ڈیڑھ کلوگرام سے کم وزن رکھنے والے بچوں میں آر او پی کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں آکسیجن کی مقدار کو مناسب حد میں رکھنا مرض کی شدت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں سات ماہ کے جڑواں بچوں، ابراہیم اور اسماعیل، میں آر او پی کی تشخیص ہوئی جس کے بعد فوری علاج شروع کیا گیا۔ بروقت طبی مداخلت کے باعث بیماری کو بڑھنے سے روک لیا گیا اور بچوں کی بینائی محفوظ رہی۔ دونوں بچے باقاعدہ فالو اَپ کے عمل سے گزر رہے ہیں اور ان کی صحت میں بہتری آ رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف ہسپتالوں کے ساتھ اسکریننگ، منتقلی اور سرجری کی سہولت کے لیے روابط قائم ہیں تاکہ زیادہ خطرے سے دوچار نوزائیدہ بچوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا سکے۔ مزید برآں ٹیلی اوفتھلمولوجی سروسز کے ذریعے دور دراز علاقوں حتیٰ کہ بعض بیرونِ ملک مراکز کو بھی تشخیص اور رہنمائی کی سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہے۔