بیجنگ ۔28فروری (اے پی پی):چین کے ماہرِ امورِ خارجہ پروفیسر چینگ ژی ژونگ نے کہا ہے کہ پاک۔افغان سرحد پر حالیہ فوجی جھڑپ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ افغانستان کی جانب سے برسوں سے دہشت گرد سرگرمیوں کی مبینہ چشم پوشی کا نتیجہ ہے، جس کے باعث پاکستان کو اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری دفاعی اقدامات کرنا پڑے۔بیجنگ میں قائم غیر سرکاری تھنک …
سرحد پار دہشت گردی روکنے کے لیے پاکستان کا ردعمل جائز دفاعی اقدام ہے، چینی ماہرِ امورِ خارجہ

مزید خبریں
بیجنگ ۔28فروری (اے پی پی):چین کے ماہرِ امورِ خارجہ پروفیسر چینگ ژی ژونگ نے کہا ہے کہ پاک۔افغان سرحد پر حالیہ فوجی جھڑپ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں بلکہ افغانستان کی جانب سے برسوں سے دہشت گرد سرگرمیوں کی مبینہ چشم پوشی کا نتیجہ ہے، جس کے باعث پاکستان کو اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری دفاعی اقدامات کرنا پڑے۔بیجنگ میں قائم غیر سرکاری تھنک ٹینک Charhar Institute سے وابستہ سینئر ریسرچ فیلو پروفیسر چینگ ژی ژونگ نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ہمسایہ ملک کے طور پر افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور علاقائی امن کے فروغ کے لیے کوشاں رہا ہے، تاہم اس خیرسگالی کا مناسب جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ 26 فروری کی شب افغان طالبان کی افواج نے خیبر پختونخوا کی سرحدی پٹی میں پاکستانی فوجی چوکیوں اور تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا اور مارٹر گولے شہری آبادی پر بھی داغے گئے، جس سے عام شہری زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی فضائی کارروائی کے بعد سامنے آئی، جن ٹھکانوں سے پاکستان میں متعدد خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
پروفیسرکا کہنا تھا کہ پاکستان بارہا اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ دہشت گردی تمام ممالک کا مشترکہ دشمن ہے اور افغان طالبان کو اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کا ردعمل جارحیت نہیں بلکہ ایک جائز اور ضروری دفاعی اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فوجی تصادم کا خواہاں نہیں اور دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی اور علاقائی امن مذاکرات میں سہولت کاری کرتا رہا ہے۔
تاہم امن یکطرفہ رعایتوں سے ممکن نہیں، اس لیے افغان فریق کو اشتعال انگیز اقدامات روک کر سرحد پار دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کرنی چاہیے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔پروفیسرکے مطابق پاکستان اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا، جبکہ ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان دونوں ممالک اور پورے خطے کے مفاد میں ہے۔








