لندن۔24مارچ (اے پی پی):انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل وان نے کہا ہے کہ ہیڈ کوچ برینڈن میکولم اور منیجنگ ڈائریکٹر روب کی انتہائی خوش قسمت ہیں کہ ایشز سیریز کے بعد ہونے والے جائزہ میں انہیں عہدوں سے نہیں ہٹایا گیا۔ بی بی سی کے مطابق آسٹریلیا کے ہاتھوں انگلینڈ کی 1-4 سے عبرتناک شکست کے بعد ناقدین نے منصوبہ بندی کے فقدان اور ٹیم کی ناقص کارکردگی …
ایشز سیریز میں ناکامی کے باوجود کوچنگ سٹاف برقرار،مائیکل وان کی تنقید
لندن۔24مارچ (اے پی پی):انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل وان نے کہا ہے کہ ہیڈ کوچ برینڈن میکولم اور منیجنگ ڈائریکٹر روب کی انتہائی خوش قسمت ہیں کہ ایشز سیریز کے بعد ہونے والے جائزہ میں انہیں عہدوں سے نہیں ہٹایا گیا۔ بی بی سی کے مطابق آسٹریلیا کے ہاتھوں انگلینڈ کی 1-4 سے عبرتناک شکست کے بعد ناقدین نے منصوبہ بندی کے فقدان اور ٹیم کی ناقص کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے تاہم انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ان دونوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رچرڈ گولڈ کا کہنا ہے کہ انہیں برطرف کرنا آسان تھا لیکن بورڈ نے ایسا نہیں کیا۔ مائیکل وان نے اپنے بیان میں کہا کہ اتنی بری کارکردگی کے بعد مینجمنٹ گروپ کا برقرار رہنا حیران کن ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اب بورڈ نے برینڈن میکولم کو تنبیہ کی ہے کہ اگر انہیں اپنی ملازمت بچانی ہے تو ٹیم میں ڈسپلن اور کھیل کی باریکیوں پر توجہ دوبارہ بحال کرنا ہوگی۔
ٹیسٹ میچ سپیشل پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مائیکل وان کا کہنا تھا کہ بین سٹوکس کی کپتانی کبھی خطرے میں نہیں تھی، تاہم برینڈن میکولم اور روب کی واقعی خوش قسمت ہیں کہ انہیں مزید موقع دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ کوئی مینجمنٹ ٹیم ایشز جیسی اہم سیریز میں بیرون ملک اتنی خراب کارکردگی دکھائے اور پھر بھی اسے کام جاری رکھنے کا موقع مل جائے۔مائیکل وان کے مطابق یہ صورتحال کسی فٹبال ٹیم جیسی لگتی ہے جہاں عموماً ایک فرد کے جانے پر پوری مینجمنٹ تبدیل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ٹیم نے کچھ دلچسپ لمحات ضرور دیئے ، لیکن کامیابیاں کم رہیں اور اب شائقین تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔
برینڈن میکلوم اور روب کی کے نسبتاً آزاد اندازِ انتظام پر بھی تنقید کی گئی، جس کے بارے میں ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے ٹیم کا ماحول حد سے زیادہ نرم ہو گیاہے۔تاہم مائیکل وان نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ جائزہ کے بعد بورڈ کا رویہ بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے مطابق 2003 سے 2021 تک انگلینڈ کرکٹ میں باریک بینی اور نظم و ضبط نے اہم کردار ادا کیا، اور اب دوبارہ اسی طرف واپسی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بورڈ نے برینڈن میکولم سے واضح کر دیا ہے کہ اگر انہیں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنی ہیں تو ٹیم میں دوبارہ کارکردگی پر توجہ دینا ہوگی۔









