قازقستان کے سفیر یرزہان کستافن نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کا دورہ کیا اور ریکٹر نمل سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نمل بریگیڈیئر محمد رفیق خان، سفارتخانہ قازقستان کے فرسٹ سیکرٹری منار بیک نورتازین، ڈین فیکلٹی آف لینگویجز ڈاکٹر جمیل اصغر جامی اور ڈائریکٹر نائیلو ڈاکٹر حما حیات بھی موجود تھیں
قازقستان کے سفیر یرزہان کستافن کا نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کا دورہ ، ریکٹر نمل سے ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اپریل (اے پی پی):قازقستان کے سفیر یرزہان کستافن نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کا دورہ کیا اور ریکٹر نمل سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نمل بریگیڈیئر محمد رفیق خان، سفارتخانہ قازقستان کے فرسٹ سیکرٹری منار بیک نورتازین، ڈین فیکلٹی آف لینگویجز ڈاکٹر جمیل اصغر جامی اور ڈائریکٹر نائیلو ڈاکٹر حما حیات بھی موجود تھیں۔ ریکٹر نمل نے معزز مہمان کو یونیورسٹی کا تفصیلی تعارف پیش کیا جس میں تعلیمی معیار، جدید زبانوں پر خصوصی توجہ اور کمپیوٹنگ و دیگر ابھرتے ہوئے شعبہ جات میں توسیع پر روشنی ڈالی گئی۔ یرزہان کستافن نے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمل کی نمایاں خدمات کو سراہا اور لسانی و ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ میں اس کے کردار کو قابل تحسین قرار دیا۔
ملاقات کے دوران سفیر نے نمل میں ’’سنٹر فار ترکک سیولائزیشن‘‘ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ مجوزہ مرکز کا مقصد ترک ریاستوں کے درمیان تعلیمی، ثقافتی اور تحقیقی تعاون کو فروغ دینا ہے جس کے تحت تراجم، مشترکہ تحقیق، ثقافتی پروگرامز اور تعلیمی تبادلے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر غور کیا گیا کہ یہ مرکز آستانہ کی سرپرستی میں قائم کیا جا سکتا ہے جبکہ نمل اس کا عملی و رابطہ پلیٹ فارم ہوگا۔ ریکٹر نمل نے اس تجویز میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور سفارتخانہ قازقستان سے اس عمل کو باضابطہ طور پر آگے بڑھانے کی درخواست کی۔ مزید برآں کستافن نے قازقستان میں منعقد ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں اور نظر بایف یونیورسٹی میں تعلیمی میلے کے منصوبوں سے آگاہ کیا اور نمل کے ایک وفد کو ان تقریبات میں شرکت کی دعوت دی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ مرکز کے قیام سے ترک ریاستوں کی ممتاز جامعات کے ساتھ اشتراک کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جن میں طلبہ و اساتذہ کے تبادلے اور مشترکہ تعلیمی منصوبے شامل ہیں۔ریکٹر نمل نے معزز سفیر کی تشریف آوری اور تعمیری تجاویز پر ان کا شکریہ ادا کیا جو تعلیمی و ثقافتی روابط کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔








