بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی سہولیت کے لئے مختصر دورانیے میں پروٹیکٹر کے اجراء کو یقینی بنایا جا رہا ہے ،ڈائریکٹر عبد الشکور سومرو

بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی سہولیت کے لئے مختصر دورانیے میں پروٹیکٹر کے اجراء کو یقینی بنایا جا رہا ہے ،ڈائریکٹر عبد الشکور سومرو

راولپنڈی ۔14اپریل (اے پی پی):ڈائریکٹر پروٹیکٹوریٹ آف امیگرنٹس راولپنڈی عبد الشکور سومرو نے کہا ہے کہ پروٹیکٹوریٹ آف امیگرنٹس راولپنڈی آفس نے بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کے لیے سہولیات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ دفتر میں جدید سسٹم کے تحت روزانہ 1000 سے 1200 درخواست گزاروں کو صرف 2 سے 3 گھنٹوں کے مختصر دورانیے میں پروٹیکٹر کے اجراء کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ ٹاؤٹ مافیا اور غیر ضروری افراد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ منگل کو’’اے پی پی ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ملک کے 11 دفاتر کی طرح راولپنڈی آفس بھی بلاتعطل خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ پروٹیکٹر کے حصول کے لیے آنے والے ہر گروپ کو سینئر افسران کی جانب سے بریفنگ دی جاتی ہے۔ اس سیشن کا مقصد پاکستانیوں کو بیرون ملک سوشل میڈیا کے غلط استعمال، غیر قانونی سرگرمیوں اور جرائم سے بچنے کی ترغیب دینا ہے۔

بریفنگ میں سمندر پار پاکستانیوں پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا زرمبادلہ صرف قانونی ذرائع (بینکنگ چینلز) سے پاکستان بھیجیں تاکہ ملکی معیشت کو استحکام ملے۔ڈائریکٹر نے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار مؤثر پاسپورٹ، ویزہ اور اصل شناختی کارڈ کے ہمراہ دفتر آتےہیں، جہاں بائیو میٹرک اور دستاویزات کی تصدیق کے بعد فوری عمل درآمد شروع کر دیا جاتا ہے۔ یہاں سے جاری ہونے والے پروٹیکٹرز کا ڈیٹا متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں اور ایف آئی اے کو فوری فراہم کیا جاتا ہے تاکہ سفری مراحل میں آسانی ہو۔انہوں نے بتایا کہ پروٹیکٹر حاصل کرنے والے ہر فرد کو ’’مکمل تحفظ پلان‘‘ کے تحت 5 سال کے لیے لائف انشورنس فراہم کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی دفتر نہ صرف مقامی شہریوں بلکہ اٹک، چکوال، جہلم، گجرات، منڈی بہاؤالدین، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے درخواست گزاروں کو بھی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ عبد الشکور سومرونے بیرون ملک جانے کے خواہشمند افراد سے اپیل کی کہ وہ صرف بیورو آف امیگریشن کی ویب سائٹ پر رجسٹرڈ ’’اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز‘‘ کے ذریعے اپنے کیسز پراسیس کرائیں اور ہر ادائیگی کی رسید لازمی حاصل کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر بیرون ملک معاہدے کی خلاف ورزی ہو تو متاثرہ شہری بیورو کے شکایات پورٹل پر رجوع کر سکتے ہیں، جہاں ترجیحی بنیادوں پر ازالہ کیا جاتا ہے۔