بلوچستان میں زیتون کی کاشت کا انقلاب، 26 لاکھ پودے پیداوار کے مرحلے میں داخل

بلوچستان میں زیتون کی کاشت کا انقلاب، 26 لاکھ پودے پیداوار کے مرحلے میں داخل

کوئٹہ۔ 03 مئی (اے پی پی):بلوچستان میں زیتون کی کاشت نے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں تقریباً 26 لاکھ زیتون کے پودے اب باقاعدہ پیداوار کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری اس زرعی انقلاب نے نہ صرف مقامی معیشت کو تقویت دی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی زیتون مارکیٹ میں ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر بھی متعارف کروانا شروع کر دیا ہے۔

ماہرین زراعت کے مطابق ضلع لورالائی زیتون کی کاشت کا مرکزی حب بن کر سامنے آیا ہے، جہاں پیدا ہونے والے زیتون میں تیل کی شرح 25 سے 32 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ شرح بین الاقوامی معیار کے مطابق نہایت اعلیٰ تصور کی جاتی ہے، جو اس خطے کی زمین اور موسمی حالات کی موزونیت کو ظاہر کرتی ہے۔ بلوچستان جیسے خشک سالی سے متاثرہ خطے میں زیتون کی کاشت ایک پائیدار اور مؤثر متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق زیتون کا پودا کم پانی میں بھی نشوونما پا سکتا ہے اور ایک بار لگانے کے بعد تقریباً 40 سے 50 سال تک مسلسل پیداوار دیتا ہے۔ یہی خصوصیات اسے موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ایک اسٹریٹجک فصل بناتی ہیں۔زیتون کی بڑھتی ہوئی پیداوار کے ساتھ ساتھ اس کے پراسیسنگ، پیکجنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جدید مشینری اور مارکیٹنگ کے نظام کو فروغ دیا جائے تو کاشتکاروں کی آمدن میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے۔ مقامی سطح پر آئل ایکسٹریکشن یونٹس کے قیام سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں ۔

حکام کے مطابق بلوچستان 2028-29 تک مکمل پیداواری مرحلے میں داخل ہو جائے گا، جس کے بعد نہ صرف ملکی ضروریات پوری کی جا سکیں گی بلکہ برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہونے کی توقع ہے۔قومی و عالمی تناظرعالمی سطح پر زیتون کے تیل کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً صحت بخش غذا کے رجحان کے باعث اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، ایسے میں بلوچستان کا زیتون عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید خبریں