ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ناگزیر ، تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی اپنی استطاعت سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے،بلال اظہر کیانی

اسلام آباد۔16مئی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیو بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ناگزیر ہے جبکہ تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی اپنی استطاعت سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے۔وہ ہفتہ کو نیشنل ٹیکس پیئرز کنونشن 2026 کی افتتاحی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ دو روزہ کنونشن کا انعقاد ٹیکس پیئرز الائنس آف پاکستان نے پرائم انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے …

اسلام آباد۔16مئی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیو بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ناگزیر ہے جبکہ تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی اپنی استطاعت سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے۔وہ ہفتہ کو نیشنل ٹیکس پیئرز کنونشن 2026 کی افتتاحی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ دو روزہ کنونشن کا انعقاد ٹیکس پیئرز الائنس آف پاکستان نے پرائم انسٹیٹیوٹ کے تعاون سے کیا جس میں کاروباری تنظیموں، چیمبرز، ماہرینِ معیشت، پیشہ ور افراد، ماہرین تعلیم، سیاسی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکس پیئرز الائنس آف پاکستان کے چیف کنوینر اور پرائم انسٹی ٹیوٹ کے سی ای او ڈاکٹر علی سلمان نے کہا کہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے شہری اور کاروباری طبقہ احترام، وقار اور پالیسی سازی کے عمل میں مؤثر نمائندگی کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس پالیسی اور ٹیکس انتظامیہ ریاست اور شہریوں کے درمیان سماجی معاہدے کی بنیاد ہیں تاہم پاکستان میں یہ معاہدہ کمزور ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر علی سلمان نے کہا کہ ملک کو ایک زیادہ مؤثر اور ذہین نظام درکار ہے جو قانون کی حکمرانی، قومی دفاع، بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات فراہم کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس پیئرز الائنس کے تین بنیادی اہداف ٹیکس شرحوں میں نمایاں کمی، ٹیکس نظام کو سادہ اور ہم آہنگ بنانا اور غیر ضروری سرکاری اخراجات کا خاتمہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے سے دستاویزی معیشت پر مسلسل زیادہ ٹیکس عائد کرنے سے اعتماد مجروح ہوتا ہے اور رسمی معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ’’ٹیکس پیئرز بل آف رائٹس‘‘اور ’’چارٹر آف ڈیمانڈز‘‘کے مسودے بھی پیش کیے اور شرکاء سے ان پر تجاویز دینے اور قومی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ بنانے کی اپیل کی۔

اس موقع پروزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت آئندہ وفاقی بجٹ سے قبل صنعتوں، کاروباری تنظیموں اور ٹیکس دہندگان کے نمائندوں سے مشاورت کر رہی ہے تاکہ ان کی تجاویز کو بجٹ سازی میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی گنجائش کے مسائل درپیش ہیں تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ تنخواہ دار طبقہ اپنی منصفانہ حد سے زیادہ بوجھ اٹھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت جہاں ممکن ہوا اس بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کرے گی تاہم بجٹ کی حتمی منظوری سے قبل محتاط طرزِ عمل اختیار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فنانس بل پر پارلیمانی نگرانی میں بہتری آئی ہے اور اب دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹیاں اس کا تفصیلی جائزہ لیتی ہیں جس سے ٹیکس شرحوں، طریقہ کار اور عملدرآمد سے متعلق مسائل پر بہتر بحث ممکن ہوتی ہے۔

بلال اظہر کیانی نے ایف بی آر اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فیس لیس کسٹمز، کمپلائنس رسک مینجمنٹ، ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور ڈیجیٹل ادائیگیوں جیسے اقدامات پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام میں انسانی مداخلت کم کرنے سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ قانون پر عمل کرنے والے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے درمیان مساوی ماحول بھی پیدا ہوگا۔انہوں نے حکومت کی پانچ سالہ ٹیرف پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹری اور اضافی کسٹمز ڈیوٹیز میں بتدریج کمی لائی جا رہی ہے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو، برآمدات میں اضافہ ہو اور معیشت کو نجی شعبے اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب منتقل کیا جا سکے۔

کنونشن کے شرکاء نے اس امر کا خیرمقدم کیا کہ پالیسی ساز اور ٹیکس دہندگان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے ہیں۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مالیاتی مباحثے کو صرف محصولات کے اہداف تک محدود رکھنے کے بجائے انصاف، ٹیکس ادائیگی کی لاگت، انتظامی رویوں، سرکاری اخراجات اور ریاستی خدمات کے معیار جیسے نکات کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

مزید خبریں