ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کی جانب سے جاری کردہ فریزنگ (منجمدی) احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے جامشورو اور کراچی کے ضلع ملیر میں مختلف مقامات پر بڑی کارروائیاں کی ہیں جن کے دوران زمینوں کا قبضہ حاصل کیا گیا اور متعدد جائیدادوں کو سیل کر دیا گیا۔نیب ترجمان کے مطابق ڈپٹی کمشنر جامشورو نے پولیس نفری اور محکمہ جنگلات حکومت سندھ کے کنزرویٹر کے ہمراہ دیہہ مول
نیب کی فریزنگ احکامات پر بڑی کارروائی، جامشورو اور ملیر میں زمینیں و جائیدادیں تحویل میں لے لی گئیں
اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کی جانب سے جاری کردہ فریزنگ (منجمدی) احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے جامشورو اور کراچی کے ضلع ملیر میں مختلف مقامات پر بڑی کارروائیاں کی ہیں جن کے دوران زمینوں کا قبضہ حاصل کیا گیا اور متعدد جائیدادوں کو سیل کر دیا گیا۔نیب ترجمان کے مطابق ڈپٹی کمشنر جامشورو نے پولیس نفری اور محکمہ جنگلات حکومت سندھ کے کنزرویٹر کے ہمراہ دیہہ مول، تعلقہ تھانہ بولا خان اور بحریہ ٹائون کراچی (بی ٹی کے-2) سے منسلک اراضی کا قبضہ حاصل کیا۔ یہ کارروائی نیب کے فریزنگ آرڈر کی تعمیل میں کی گئی۔دوسری جانب ضلع ملیر میں بھی اسی نوعیت کی کارروائی عمل میں لائی گئی جہاں ڈپٹی کمشنر نے ایک علیحدہ فریزنگ حکم پر عمل کرتے ہوئے ایک بڑی رہائشی جائیداد ’’علی ولا‘‘ کو سیل کر دیا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ رہائش گاہ بحریہ ٹائون کراچی کے بحریہ ہلز کے علاقے میں واقع ہے اور اسے وسیع رقبے پر جدید سہولیات کے ساتھ تعمیر کیا گیا تھا۔ جائیداد میں ہیلی پیڈ، سوئمنگ پول اور دیگر سہولیات بھی شامل بتائی جاتی ہیں۔
ادھر نیب کی جانب سے دو نئی انکوائریوں کے بعد مجموعی طور پر 1338 ایکڑ اراضی بھی منجمد کی گئی ہے جس کے بارے میں موقف ہے کہ اسے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے حاصل کیا گیا اور اس پر مختلف رہائشی و کمرشل منصوبے تعمیر کیے گئے۔مزید بتایا گیا ہے کہ اس اراضی پر بحریہ گرینز اور مختلف پریسنکٹس 33، 34، 38 تا 40، 42 اور 61 شامل ہیں۔اسی طرح بحریہ ٹائون کراچی کے ’’بحریہ ٹائون 2‘‘ منصوبے کی 3150 ایکڑ زمین بھی فریز کر دی گئی ہے جس کے بارے میں الزام ہے کہ یہ اراضی مبینہ طور پر ایک نجی کمپنی کے ذریعے حاصل کی گئی۔فریزنگ احکامات میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی صورت میں ان زمینوں پر تیسرے فریق کے حقوق پیدا نہ ہونے دیئے جائیں اور تمام ریکارڈ محفوظ رکھا جائے۔یاد رہے کہ نیب پہلے ہی اس کیس سے متعلق ریفرنس احتساب عدالت کراچی میں دائر کر چکا ہے جس میں ضلع ملیر کی ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین کی مبینہ غیر قانونی تبدیلی اور خوردبرد کے الزامات شامل ہیں۔









