وزارت خزانہ کی جانب سے ایس او ایز کیلئے بزنس پلانز اور اسٹیٹمنٹ آف کارپوریٹ انٹینٹ کی تیاری کے ضمن میں رہنما فریم ورک جاری
وزارت خزانہ کی جانب سے ایس او ایز کیلئے بزنس پلانز اور اسٹیٹمنٹ آف کارپوریٹ انٹینٹ کی تیاری کے ضمن میں رہنما فریم ورک جاری
اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کیلئے بزنس پلانز اور اسٹیٹمنٹ آف کارپوریٹ انٹینٹ کی تیاری کے ضمن میں رہنما فریم ورک جاری کر دیا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق فریم ورک میں ایس او ایز اور متعلقہ لائن منسٹریز/ڈویژنز کو بزنس پلانز اور اسٹیٹمنٹ آف کارپوریٹ انٹینٹ کی تیاری، مشاورت، نگرانی اور جانچ کے عمل میں سہولت دینے کے لیے تفصیلی ہدایات، نمونے، ٹائم لائنز، رپورٹنگ فارمیٹس، کارکردگی کے اشاریے، مالی پیش گوئی کے تقاضے، گورننس کی توقعات، رسک مینجمنٹ کے پیرامیٹرز اور اسٹیٹمنٹ آف کارپوریٹ انٹینٹ کی تیاری سے متعلق رہنما اصول یکساں اور جامع انداز میں فراہم کیے گئے ہیں، تمام متعلقہ وزارتوں،ڈویژنز اورایس او ایز سے ایس او ایز ایکٹ 2023 کی متعلقہ دفعات کی پابندی کو یقینی بنانے اور بزنس پلانز و اسٹیٹمنٹ آف کارپوریٹ انٹینٹ کی تیاری و نظرثانی کے دوران منسلک رہنما مواد سے استفادہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
فریم ورک میں اداروں کی مالی پائیداری، کارکردگی، سرمایہ کاری، قرضہ جات، اثاثہ جات کے استعمال اور حکومتی معاونت کے موثر جائزے کے لیے تفصیلی رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ فریم ورک کے مطابق ہر سرکاری ملکیتی ادارے کو اپنی آمدنی اور اخراجات کی مکمل پیش گوئی، ترقی کی شرح، نئے اور موجودہ کاروباری ذرائع، لاگت میں کمی کی حکمت عملی اور مالیاتی توازن کی وضاحت کرنا ہوگی، اس کے ساتھ منافع و نقصان، بیلنس شیٹ اور کیش فلو اسٹیٹمنٹ کو باہم مربوط اور متوازن رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایس او ایز کو اپنے منافع کی تقسیم، ڈیویڈنڈ پالیسی، برقرار رکھی گئی آمدنی اور حکومتی مفادات کے تحفظ کے لیے مالی اصولوں کی تفصیل بھی فراہم کرنا ہوگی،سرمایہ جاتی اخراجات کے حوالے سے اداروں کو آئندہ تین برسوں کے لیے مکمل منصوبہ پیش کرنا ہوگا، جس میں یہ وضاحت شامل ہوگی کہ کتنی سرمایہ کاری موجودہ اثاثوں کی مرمت و بحالی کے لیے ہے اور کتنی نئی ترقیاتی سرمایہ کاری کے لیے مختص کی جا رہی ہے۔
اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ماضی کے ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے اخراجات، بجٹ سے انحراف، تاخیر یا اضافی اخراجات کی وجوہات بھی واضح طور پر بیان کی جائیں۔ فریم ورک کے مطابق اگر کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ حکومتی مالی معاونت کا متقاضی ہو تو اسے پہلے سے متعلقہ حکومتی اداروں اور وزارت خزانہ سے منظوری حاصل کرنا ہوگی جبکہ قرضہ جات اور مالیاتی ذمہ داریوں کی مکمل تفصیلات بھی بزنس پلان کا حصہ بنیں گی۔ فریم ورک میں اثاثوں کی فروخت اور نجکاری سے متعلق شفافیت کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے،کسی بھی بڑے اثاثے کی فروخت، نیلامی یا منتقلی کی صورت میں ادارے کو اس کی وجوہات، طریقہ ہائے کار، متوقع قیمت اور مالی اثرات کی تفصیل فراہم کرنا ہوگی، بڑے آپریشنل اخراجات، کنسلٹنسی معاہدوں اور بیرونی خدمات کے لیے کیے جانے والے اخراجات کی تفصیلات بھی سالانہ بنیادوں پر ظاہر کرنا لازمی ہوں گی تاکہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
فریم ورک میں اثاثہ جاتی نظم و نسق کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری ادارے اپنے اہم اثاثوں کی دیکھ بھال، آپریشنز اور مرمت کے لیے واضح نظام وضع کریں گے جبکہ کارکردگی اور بھروسے کے لیے باقاعدہ کے پی آئیز بھی مقرر کیے جائیں گے،انسانی وسائل سے متعلق حکمت عملی کے تحت اداروں کو تنظیمی ڈھانچے، افرادی قوت میں تبدیلی، خصوصی تربیتی پروگرامز، اور خواتین و مرد ملازمین کی نمائندگی سے متعلق مکمل اعدادوشمار فراہم کرنا ہوں گے، بورڈ آف ڈائریکٹرز، انتظامیہ، تکنیکی اور غیر تکنیکی شعبوں میں صنفی تنوع کے اہداف شامل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
تمام ایس او ایز کو اپنے نقد ذخائر، بینک بیلنس، حکومتی سکیورٹیز، سرمایہ کاری، قرضوں، اور حکومتی فنڈنگ کی تفصیلات بھی سالانہ بنیادوں پر فراہم کرنا ہوں گی تاکہ مالی شفافیت اور نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے۔ نئے فریم ورک کے تحت سرکاری اداروں کو اپنی طویل المدتی حکمت عملی، مالی پائیداری، آپریشنل کارکردگی، صارفین سے تعلقات، افرادی قوت، اثاثہ جاتی نظم و نسق اور رسک مینجمنٹ کے لیے واضح اہداف مقرر کرنا ہوں گے جبکہ ہر شعبے کے لیے ذمہ دار ڈویژن، تکمیل کی مدت اور مالی اثرات کی تفصیلات بھی شامل کرنا ہوں گی۔









