پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کا ڈبہ بند دودھ پر جی ایس ٹی میں کمی کا مطالبہ

اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن(پی ڈی اے) نےمطالبہ کیا ہے کہ پیکڈ دودھ پر جی ایس ٹی کو اٹھارہ فیصد سے کم کرکے دس فیصد ، قیمتوں کی حد (پرائس کیپس ) کا خاتمہ، ڈیری پروسیسنگ کیلئے سبسڈائزڈانرجی ٹیرف (بجلی گیس کے نرخ)، نیشنل ڈیری پالیسی کی تیاری، ملک بھر میں کم از کم پاسچرائزیشن قانون کا نفاذ، اسلام آباد، لاہور میں محفوظ دودھ کے پائلٹ پراجیکٹس …

اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن(پی ڈی اے) نےمطالبہ کیا ہے کہ پیکڈ دودھ پر جی ایس ٹی کو اٹھارہ فیصد سے کم کرکے دس فیصد ، قیمتوں کی حد (پرائس کیپس ) کا خاتمہ، ڈیری پروسیسنگ کیلئے سبسڈائزڈانرجی ٹیرف (بجلی گیس کے نرخ)، نیشنل ڈیری پالیسی کی تیاری، ملک بھر میں کم از کم پاسچرائزیشن قانون کا نفاذ، اسلام آباد، لاہور میں محفوظ دودھ کے پائلٹ پراجیکٹس قائم کئے جائیں تاکہ دیہی معاش کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ کو بہتر بنانےاور قومی ٹیکس بیس کو وسعت دی جاسکے۔

منگل کو یہاں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سی ای او پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن ڈاکٹر شہزاد امین،چیئرمین و سی ای او فوجی فوڈزعثمان ظہیر احمد و دیگر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ دودھ غذائیت کی فراہمی کے سستے ترین اور موثر ترین طریقوں میں سے ایک ہے جو بچوں کی نشوونما، قوت مدافعت، ماں کی صحت اور ذہنی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان کا ڈیری سیکٹر زراعت کا سب سے بڑا جزو ہے اور غذائیت، معاشی ترقی اور دیہی روزگار کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محفوظ اور سستا دودھ ہر پاکستانی شہری کا حق ہے، پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا 40 فیصد بچے سٹنٹنگ (کم نشوونما) کا شکار ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ تجارت کے قابل دودھ کے صرف 50 فیصد کو رسمی (دستاویزی) دھارے میں لانے سے تقریباساڑھے سات ٹریلین روپے کا ٹیکس حاصل ہو سکتا ہے اور جی ایس ٹی کی مد میں 1300 ارب روپے سے زائد کی آمدن ہو سکتی ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی کسانوں کی آمدنی اور غذائیت کے نتائج میں بھی بہتری آئے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیری کی صنعت پاکستان کی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہےجو زرعی جی ڈی پی میں تقریبا 65 فیصد اور قومی جی ڈی پی میں14.7فیصد حصہ ڈالتی ہے اور تقریبا 10 ملین دیہی خاندانوں اور 50 ملین لوگوں کو روزگارفراہم کرتی ہے۔کھلے دودھ کے برعکس پیکڈ دودھ صارفین تک پہنچنے سے پہلے باقاعدہ پروسیسنگ، کولڈ چین مینجمنٹ اور متعدد حفاظتی و معیاری جانچ پڑتال سے گزرتا ہے۔