بی جے پی کے زیر اثر بھارتی تعلیمی اداروں میں بالخصوص مسلمانوں کے مذہبی لباس کے حوالے سے تنازع دوبارہ جنم لینے لگا ۔
کانگریس کے زیر اقتدار ریاست کرناٹک میں بی جے پی کے انتہا پسند فیصلے کالعدم قرار، انتہا پسند ہندو تنظیمیں بےلگام

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):بی جے پی کے زیر اثر بھارتی تعلیمی اداروں میں بالخصوص مسلمانوں کے مذہبی لباس کے حوالے سے تنازع دوبارہ جنم لینے لگا ۔تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے خاتمے پر انتہا پسندہندو تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے لگیں۔بھارتی جریدہ انڈیا ٹو ڈے کے مطابق کرناٹک میں مسلم دشمنی میں اندھی انتہا پسند ہندو تنظیموں نے حجاب کے خلاف متنازع "سیفرون شال” مہم کا آغاز کر دیا،شری رام سینا اور دیگر ہندو تنظیموں کے اراکین نے "سیفرون شال” مہم کے تحت طلبا میں چادریں تقسیم کیں۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق کانگریس حکومت کے فیصلے نے2022 میں بی جے پی حکومت کی تعلیمی اداروں میں حجاب پرعائد پابندی کو ختم کر دیا ہے،مسلم دشمنی پر قائم بی جے پی نے کانگریس حکومت پر ووٹ بینک اور خوشنودی کا روایتی الزام عائد کر دیا ہے۔ 2022 میں بھی کرناٹک میں مسلم طالبہ کے حجاب پہننے پر ہندوتوا غنڈوں کی جانب سے نفرت انگیز نعرے لگائے گئے تھے۔ وزیراعلیٰ بہار نتیش کمار نے سرکاری تقریب میں مسلم خاتون کا نقاب کھینچ کر مذہبی آزادی پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔عالمی ماہرین کے مطابق مودی اور آرایس ایس ہندوتوا ایجنڈا کے تحت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی شناخت مٹانے کی مذموم سازش میں مصروف ہیں، مودی کے زہریلے ہندوتوا نظریے نے نام نہاد سیکولر بھارت کے ڈھونگ کو دنیا بھر میں بےنقاب کر دیا ہے۔








