انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 175C کے تحت کارروائی کے دوران قانونی طریقۂ کار کے بغیر رقوم کی وصولی بدانتظامی کے زمرے میں آتی ہے، وفاقی ٹیکس محتسب

انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 175C کے تحت کارروائی کے دوران قانونی طریقۂ کار کے بغیر رقوم کی وصولی بدانتظامی کے زمرے میں آتی ہے، وفاقی ٹیکس محتسب

اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب نے قرار دیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 175C کے تحت کارروائی کے دوران قانونی طریقۂ کار کے بغیر رقوم کی وصولی بدانتظامی (Maladministration) کے زمرے میں آتی ہے اور یہ عمل قانونی تقاضوں اور منصفانہ انتظامی اصولوں کے منافی ہے۔فیڈرل ٹیکس محتسب نے ایک شکایت پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی ہے کہ وہ معاملے کی حقائق پر مبنی انکوائری کرے اور 45 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ جمع کرائے۔

یہ شکایت ایبٹ آباد کے نور سرجیکل ہسپتال کے مالک کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ محکمہ ان لینڈ ریونیو کے اہلکاروں نے دورے کے دوران سیکشن 175C کے تحت کارروائی کرتے ہوئے قانونی اسیسمنٹ یا تحریری حکم کے بغیر دبائو کے تحت خطیر رقم وصول کی۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنے جواب میں موقف اختیار کیا کہ کارروائی قانون کے مطابق شروع کی گئی تھی اور وصول کی گئی رقم شکایت گزار نے رضاکارانہ طور پر جمع کرائی تاہم محتسب کے سامنے کوئی تحریری فیصلہ یا اسیسمنٹ آرڈر پیش نہیں کیا جا سکا۔

فیڈرل ٹیکس محتسب نے مشاہدہ کیا کہ سیکشن 175C بنیادی طور پر انکوائری اور معلومات کے حصول کی شق ہے اور یہ قانونی اسیسمنٹ کے بغیر ٹیکس وصولی کا اختیار نہیں دیتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کارروائی کو حتمی قانونی انجام تک نہ پہنچانا اور تحریری وجوہات پر مبنی حکم جاری نہ کرنا بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے۔

محتسب نے مزید کہا کہ انکوائری کے دوران ’’رضاکارانہ ڈپازٹس‘‘ کا حصول شفافیت اور منصفانہ انتظامی اصولوں پر سوالات اٹھاتا ہے اور اسے قانونی ٹیکس اسیسمنٹ کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔فیصلے میں سفارش کی گئی کہ متعلقہ حکام کے خلاف انکوائری کی جائے، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور آئندہ ایسے معاملات میں واضح انتظامی ہدایات جاری کی جائیں تاکہ قانونی طریقۂ کار اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔