بین الاقوامی برادری کشمیری بچوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم پر مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کر رہی ہے ،مشتاق احمد بٹ

کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے جارحیت کے شکار معصوم بچوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج دنیا بھر میں یہ دن اُن بے گناہ اور معصوم بچوں کی یاد میں منایا جا رہا ہے جو جنگوں، فوجی قبضوں، ریاستی جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا شکار بنتے ہیں۔

اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے جارحیت کے شکار معصوم بچوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج دنیا بھر میں یہ دن اُن بے گناہ اور معصوم بچوں کی یاد میں منایا جا رہا ہے جو جنگوں، فوجی قبضوں، ریاستی جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا شکار بنتے ہیں۔ تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں معصوم کشمیری بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بدستور عالمی ضمیر کی بے حسی اور بین الاقوامی برادری کی مجرمانہ خاموشی کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے لاکھوں بچے گزشتہ کئی دہائیوں سے ایسے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں خوف، عدم تحفظ اور تشدد روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ بھارتی قابض افواج کی مسلسل کارروائیوں، محاصروں، چھاپوں، گرفتاریوں اور ریاستی جبر نے کشمیری بچوں سے ان کا بچپن، تعلیم، ذہنی سکون اور روشن مستقبل چھین لیا ہے۔ ایک پوری نسل ایسے حالات میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں امن، تحفظ اور آزادی محض خواب بن چکے ہیں۔

سکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں کشمیری بچے اپنی جانوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ شہدا میں شیر خوار بچے، کم عمر طلبہ اور نوعمر نوجوان بھی شامل ہیں جن کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ ایک متنازعہ اور فوجی محاصرے میں جکڑے ہوئے خطے میں پیدا ہوئے۔ مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کی شہادتوں میں تقریباً 1050 بچے بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک لاکھ سے زائد کشمیری بچے یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ ہزاروں بچوں نے اپنے والدین کو جبری گمشدگیوں کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔ایسے بے شمار خاندان موجود ہیں جن کے بچے آج تک اس اذیت ناک انتظار میں ہیں کہ انہیں اپنے والدین کے بارے میں کوئی خبر مل سکے کہ وہ زندہ ہیں یا انہیں ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق تمام عالمی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری بچوں کو دانستہ طور پر خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں رکھا جا رہا ہے۔

تعلیمی اداروں پر چھاپے، گھروں کی تلاشی، رات کے وقت فوجی کارروائیاں، کم عمر نوجوانوں کی گرفتاریاں، حراست کے دوران تشدد اور پیلٹ گنز کا اندھا دھند استعمال ایسے اقدامات ہیں جنہوں نے سیکڑوں بچوں کو مستقل جسمانی اور نفسیاتی معذوریوں سے دوچار کیا ہے۔ پیلٹ گنز کے استعمال سے متعدد بچے اپنی بینائی کھو چکے ہیں جبکہ ہزاروں دیگر شدید ذہنی صدمات کا شکار ہوئے ہیں۔سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ یہ امر انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے کہ اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور دنیا کی بااثر طاقتیں ان سنگین مظالم کے باوجود مؤثر اقدامات سے گریز کر رہی ہیں۔ عالمی برادری کی یہ خاموشی نہ صرف مظلوم کشمیری بچوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے بلکہ انسانی حقوق کے عالمی نظام کی ساکھ پر بھی ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس عالمی ضمیر، اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، یورپی یونین، یونیسیف اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں بچوں کے خلاف ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری، غیر جانبدار اور شفاف نوٹس لیا جائے۔

اقوام متحدہ کا آزاد فیکٹ فائنڈنگ مشن فوری طور پر بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر بھیجا جائے تاکہ بچوں پر ہونے والے مظالم کی آزادانہ تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں۔بھارت پر سفارتی، سیاسی اور قانونی دباؤ بڑھایا جائے تاکہ وہ کشمیری بچوں اور شہری آبادی کے خلاف طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ بند کرے۔عالمی ادارے بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں بچوں کے تحفظ، تعلیم، نفسیاتی بحالی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مستقل نگرانی کا مؤثر نظام قائم کریں۔بچوں کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کا بین الاقوامی قوانین کے مطابق احتساب یقینی بنایا جائے۔مشتاق احمد بٹ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ہم عالمی برادری سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کے بچوں کی خاموش چیخوں کو سنے۔ یہ بچے انصاف، تحفظ اور آزادی کے منتظر ہیں۔

ان کا بچپن، ان کی ہنسی، ان کے خواب اور ان کا مستقبل مسلسل تشدد اور عدم تحفظ کی نذر ہو رہا ہے۔ اگر عالمی برادری نے اب بھی اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی اختیار کیے رکھی تو تاریخ اسے ایک اور انسانی المیے پر خاموش تماشائی کے طور پر یاد رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ جارحیت کے شکار معصوم بچوں کے عالمی دن کے موقع پر یہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا بھر کے مظلوم بچوں بالخصوص کشمیری بچوں کی آواز بن کر ان کے بنیادی انسانی حقوق، تحفظ، وقار اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی، تاکہ آنے والی نسلیں خوف، تشدد اور غلامی کے بجائے امن، انصاف اور آزادی کی فضا میں پروان چڑھ سکیں۔