وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملک کی ہائیکورٹس نہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہیں اور نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت، بلکہ ہر ہائیکورٹ ایک آزاد آئینی عدالت کی حیثیت رکھتی ہے
ہائیکورٹس سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت نہیں، ان کی عدالتی و انتظامی آزادی کا احترام ضروری ہے،وفاقی آئینی عدالت
اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملک کی ہائیکورٹس نہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہیں اور نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت، بلکہ ہر ہائیکورٹ ایک آزاد آئینی عدالت کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے ان کے عدالتی اور انتظامی اختیارات میں غیر ضروری مداخلت نہیں کی جا سکتی۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں عدالت نے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) بنام ماسٹرز ٹائلز کیس میں اپیل منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹس کی آئینی حیثیت، خودمختاری اور مقدمات کی سماعت کے نظام سے متعلق اہم قانونی اصول وضع کیے ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے سامنے اکثر ایسی درخواستیں دائر کی جاتی ہیں جن میں متعلقہ ہائیکورٹ کو زیر التواء مقدمات جلد نمٹانے یا فوری سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کی جاتی ہے، تاہم اس نوعیت کی درخواستوں کا جائزہ لیتے وقت ہائیکورٹس کی آئینی خودمختاری کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ اس وقت ملک میں پانچ خودمختار ہائیکورٹس موجود ہیں اور ہر ہائیکورٹ ایک آزاد آئینی عدالت ہے۔ اگرچہ ہائیکورٹس کے فیصلے سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیے جا سکتے ہیں، لیکن محض اپیل یا نظرثانی کا اختیار کسی عدالت کو ماتحت نہیں بناتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ضلعی عدالتیں اور دیگر وہ عدالتیں جو آئین کے آرٹیکل 203 کے تحت قائم کی گئی ہیں، ہائیکورٹس کے ماتحت ہیں، تاہم ہائیکورٹس خود ایک الگ آئینی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کے اختیارات کا احترام کیا جانا چاہیے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ہائیکورٹس کے پاس مقدمات کی سماعت کے لیے اپنی فکسیشن پالیسی، آزاد روسٹر اور کیس مینجمنٹ کا نظام موجود ہوتا ہے۔ کوئی بھی ایسا حکم یا ہدایت جو ان پالیسیوں یا مقدمات کی فکسیشن کے نظام پر حاوی ہو، ہائیکورٹس کی عدالتی اور انتظامی آزادی میں مداخلت کے مترادف ہو سکتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ بعض اوقات کسی مقدمے کی ہنگامی نوعیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ معاملہ واپس بھیجے جانے کے بعد متعلقہ ہائیکورٹ میں جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، تاہم ایسے مواقع پر بھی مناسب اور محتاط الفاظ کا استعمال ضروری ہے تاکہ ہائیکورٹ کی خودمختاری متاثر نہ ہو۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اس نوعیت کی ہدایات عمومی طور پر عدالتی نہیں بلکہ انتظامی نوعیت کی ہوتی ہیں، اس لیے انہیں جاری کرتے وقت ہائیکورٹس کے آئینی مقام اور آزادی کو ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔وفاقی آئینی عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ رٹ پٹیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا تصور کی جائے گی اور توقع ظاہر کی کہ مقدمے کی فوری نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔









