وفاقی آئینی عدالت، ماحولیاتی آلودگی کیس میں وفاق و صوبوں سے نئی رپورٹ طلب

وفاقی آئینی عدالت نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے سے متعلق کیس میں وفاق اور صوبائی حکومتوں سے نئی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے سے متعلق کیس میں وفاق اور صوبائی حکومتوں سے نئی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت نے مونال ہوٹل سے متعلق نظرثانی درخواست پر بھی فریقین سے جواب مانگ لیا اور کیس آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا۔ وفاقی آئینی عدالت نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاق اور صوبوں سے نئی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بتایا جائے کہ آلودگی کے خاتمے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ صنعتی فضلہ ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ گرین اور ریڈ لائن بسیں چلانے سے کیا واقعی آلودگی میں کمی آ جائے گی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا کہ وہ جس سڑک سے گزرتے ہیں وہاں بدبو محسوس ہوتی ہے، اور یہ بدبو بھی آلودگی کی ایک قسم ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ بعض صوبوں میں آلودگی کے خاتمے کے لیے عملاً کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نظر نہیں آتی۔عدالت کو بتایا گیا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد ماحولیات کا شعبہ صوبوں کے پاس ہے۔ اس پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ موجودہ زمینی حقائق میں آلودگی کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ متعلقہ ماحولیاتی ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے، اور اگر ادارے قانون کے مطابق کارروائی کریں تو عدالتوں کو مداخلت کی ضرورت پیش نہ آئے۔عدالت نے مونال ہوٹل سے متعلق نظرثانی درخواست پر بھی فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کی۔