لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دینے کا حکم دیتے ہوئے
ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دینے کا حکم
لاہور۔4جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دینے کا حکم دیتے ہوئے محکمہ ماحولیات اور ریونیو حکام سے خصوصی رپورٹ طلب کر لی جبکہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے والی شوگر ملز کو سیل کرنے کا بھی حکم جاری کر دیا گیا ۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کیس میں ہارون فاروق ، اظہر صدیق سمیت دیگر کی ایک ہی نوعیت کی دائر درخواستوں پر سماعت کی جس میں ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک کیلئے اقدامات نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی ۔ جمعرات کو دوران سماعت متعلقہ محکموں کے اعلی حکام پیش ہوئے اور اپنی اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کیں۔
سماعت کے دوران جوڈیشل کمیشن کے رکن نے ضلع قصور کی عدالتوں میں14 درختوں کی کٹائی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے دوران درختوں کی کٹائی سے حتی الامکان گریز کیا جائے اور ماحولیات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ درخت کاٹے بغیر ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کے لیے متبادل منصوبہ بندی اختیار کی جائے، کیونکہ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے والی شوگر ملز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں سیل کیا جائے اور تمام شوگر ملز ماحولیاتی ضوابط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، بعد ازاں عدالت نے محکمہ ماحولیات، ریونیو اور دیگر متعلقہ محکموں سے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹس طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت8 جون تک ملتوی کر دی۔









