سپریم کورٹ ، نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد ،ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار

سپریم کورٹ ، نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد ،ماتحت عدالتوں کے فیصلے برقرار

اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو برقرار رکھا ہے۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جمعرات کو مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ مجرم کی جانب سے پیش کئے گئے دلائل کسی بھی طور پر پہلے دیئے گئے حتمی عدالتی فیصلوں میں مداخلت کا جواز نہیں بنتے۔سماعت کے دوران مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعہ کے وقت ان کے مؤکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی اور وہ مختلف نفسیاتی امراض کے علاج میں تھا تاہم عدالت نے اس مؤقف پر سخت سوالات اٹھائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ذہنی بیماری کے دعوے کے لئے ٹھوس میڈیکل ریکارڈ، علاج کی تاریخ اور واضح شواہد درکار ہوتے ہیں جو تسلی بخش انداز میں پیش نہیں کئے گئے۔بنچ نے مزید قرار دیا کہ پیش کردہ دستاویزات اور بیرونِ ملک سے منسوب میڈیکل خط سمیت دیگر شواہد میں بھی قانونی معیار کے مطابق تسلسل اور قابلِ اعتماد بنیاد موجود نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے نظرثانی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔واضح رہے کہ مرکزی مجرم ظاہر جعفر کو اسلام آباد کی عدالت سے سزائے موت سنائی گئی تھی جسے پہلے بھی اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کیا جا چکا تھا۔