عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے چین میں نمائندے مارٹن ٹیلر نے کہا ہے کہ چین نے جسمانی سرگرمیوں اور ورزش کے فروغ کے لیے ایسے مؤثر اقدامات کیے ہیں جو عالمی سطح پر، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں، قابلِ تقلید ہیں
عالمی ادارۂ صحت جسمانی سرگرمیوں کے فروغ میں چین کی کوششوں کا معترف
بیجنگ ۔11جون (اے پی پی):عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے چین میں نمائندے مارٹن ٹیلر نے کہا ہے کہ چین نے جسمانی سرگرمیوں اور ورزش کے فروغ کے لیے ایسے مؤثر اقدامات کیے ہیں جو عالمی سطح پر، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں، قابلِ تقلید ہیں۔شنہوا کے مطابق بیجنگ میں چائنا انسٹیٹیوٹ آف اسپورٹ سائنس کے ساتھ ایک مفاہمتی خط پر دستخط کے بعد گفتگو کرتے ہوئے مارٹن ٹیلر نے کہا کہ چین نے ورزش کو عوام کے لیے زیادہ آسان اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کی ہیں۔ ان کے مطابق قومی پالیسیوں، عوامی مقامات کی ترقی اور مقامی سطح پر کھیلوں اور صحت کی سہولیات کے انضمام نے اس شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جسمانی سرگرمیوں کی کمی دنیا بھر میں صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 31 فیصد بالغ افراد، یعنی 1.8 ارب لوگ، مطلوبہ سطح کی جسمانی سرگرمیاں انجام نہیں دیتے، جبکہ نوعمروں میں یہ شرح 80 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔مارٹن ٹیلر نے بتایا کہ ناکافی جسمانی سرگرمیوں کے باعث ہر سال تقریباً 8 لاکھ 30 ہزار افراد غیر متعدی بیماریوں کے نتیجے میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔انہوں نے چین کی قیادت کی جانب سے صحت اور کھیلوں کو دی جانے والی اہمیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی اقتصادی و سماجی ترقی کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے میں عوام اور صحت کو مرکزیت دینا ایک مثبت پیش رفت ہے، جبکہ کھیلوں کو اس حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے چین میں عوامی مقامات اور پارکس کی تعمیر میں سرمایہ کاری کو بھی قابلِ تعریف قرار دیا۔ ان کے مطابق چین کے مختلف شہروں میں پارکس، دریاؤں اور نہروں کے کنارے پیدل چلنے اور دوڑنے کے راستے، رقص اور ورزش کے لیے کھلی جگہیں اور اوپن ایئر جم عوام کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے بہترین مواقع فراہم کر رہے ہیں۔مارٹن ٹیلر نے بیجنگ کے اولمپک فاریسٹ پارک کو ایک مثالی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر ہفتے ہزاروں افراد وہاں چہل قدمی، دوڑ، ورزش اور راک کلائمبنگ جیسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔انہوں نے چینی شہروں میں شیئرڈ سائیکل سروسز کی دستیابی کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سہولت نے لاکھوں افراد کے لیے سائیکل چلانے کو آسان اور مقبول بنا دیا ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے نے مقامی سطح پر صحت اور کھیلوں کی خدمات کے انضمام کو بھی ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ ان کے مطابق شہری پہلے طبی ماہرین سے اپنی صحت کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر اپنی ضرورت کے مطابق کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، جو صحت مند معاشرے کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔مارٹن ٹیلر نے کہا کہ اگر لوگ روزانہ 20 سے 30 منٹ سوشل میڈیا پر صرف کر سکتے ہیں تو وہ اتنا ہی وقت ورزش کے لیے بھی نکال سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل اور ورزش نہ صرف صحت کے لیے مفید ہیں بلکہ خوشی اور تفریح کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔









