اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے خطے میں جاری محدود جنگ بندی کو مکمل اور پائیدار جنگ بندی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔
خلیج فارس میں محدود جنگ بندی کو مکمل جنگ بندی میں تبدیل کرنا ہوگا، اقوامِ متحدہ
اقوام متحدہ ۔11جون (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے خطے میں جاری محدود جنگ بندی کو مکمل اور پائیدار جنگ بندی میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ شنہوا کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی حل کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خلیجی خطے کے متعدد ممالک میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں، کھادوں کی بڑھتی ہوئی لاگت، غذائی عدم تحفظ اور مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ بہترین ممکنہ صورتحال میں بھی ان بحرانوں کے اثرات کئی ماہ تک محسوس کیے جائیں گے، جبکہ ترقی پذیر ممالک اس کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کریں گے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو مکمل جنگ بندی دیکھنے کی ضرورت ہے، جس کے تحت بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بحری آمدورفت کی آزادی بحال کی جائے اور جوہری معاملات پر سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں تاکہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد تک محدود رہے۔انہوں نے خلیج فارس کے لیے ایک نئی علاقائی سلامتی حکمتِ عملی تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور کثیرالجہتی تعاون کے اصولوں پر مبنی ہو۔انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں اور مستقل معاہدے کے حصول کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کی فعال سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے مصر، عمان، قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے کردار کا بھی خیرمقدم کیا۔سیکرٹر ی جنرل نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ مسلسل گہرے بحران کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کے اثرات خطے سے کہیں آگے تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ اسرائیل فلسطین تنازع ہے، جہاں غزہ میں روزانہ تشدد اور انسانی المیے جاری ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی حکومت غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر قبضے کے ارادے کا اظہار کر چکی ہے۔انہوں نے دو ریاستی حل کو مسئلے کا واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی متبادل موجود نہیں اور مزید وقت ضائع کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہے۔لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مارچ کے بعد اسرائیلی کارروائیوں اور حزب اللہ کے حملوں میں اضافے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور اقوامِ متحدہ کے سات امن اہلکار ہلاک ہوئے۔انہوں نے لبنان میں اسلحے پر ریاستی اجارہ داری کی حمایت کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے مطابق جامع جنگ بندی اور سیاسی تصفیے پر زور دیا اور مذاکرات میں امریکی کردار کو بھی سراہا۔انہوں نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی سفارتی اور تکنیکی معاونت جاری رکھے گا۔








