اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری انتونیو گوتریش نے یمن میں حوثی گروپ کی جانب سے اقوامِ متحدہ اور دیگر اداروں کے عملے کی مسلسل حراست کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے
اقوامِ متحدہ ا یمن میں حوثیوں کے زیرِ حراست عملے کی فوری رہائی کا مطالبہ
اقوام متحدہ ۔11جون (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری انتونیو گوتریش نے یمن میں حوثی گروپ کی جانب سے اقوامِ متحدہ اور دیگر اداروں کے عملے کی مسلسل حراست کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے جاری بیان میں کہا کہ حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ، غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی اور سفارتی مشنز سے وابستہ افراد کی گرفتاریوں کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں، جبکہ اب بھی اقوامِ متحدہ کے 73 اہلکار من مانی حراست میں ہیں۔بیان کے مطابق زیرِ حراست ایک اقوامِ متحدہ اہلکار دورانِ قید انتقال کر چکا ہے، جبکہ بعض افراد کو بیرونی دنیا سے مکمل طور پر الگ تھلگ رکھا گیا ہے اور ان کے اہلِ خانہ یا متعلقہ اداروں کو ان تک رسائی حاصل نہیں۔اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جن کے باعث متاثرہ افراد کے خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے یمن میں لاکھوں ضرورت مند افراد تک انسانی امداد پہنچانے کی اقوامِ متحدہ اور اس کے شراکت داروں کی صلاحیت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ اقوامِ متحدہ کے اہلکار، بشمول یمنی شہری ملازمین، اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران بین الاقوامی قانونی تحفظ اور استثنیٰ کے حامل ہوتے ہیں۔سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ زیرِ حراست اہلکاروں کی رہائی اور یمن میں انسانی و ترقیاتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے حوثی قیادت کے ساتھ مذاکرات اور رابطے جاری رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اپنے عملے کی محفوظ اور فوری رہائی کے لیے تمام ممکنہ ذرائع بروئے کار لاتی رہے گی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اقوامِ متحدہ یمن کے عوام کی حمایت اور ملک میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے عزم پر قائم ہے۔









