رفح بارڈر کراسنگ کھلنے کے بعد غزہ سے طبی انخلا دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں مکمل، اقوام متحدہ

اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی اداروں نے اعلان کیا ہے کہ مصر کی سرحد پر واقع رفح بارڈر کراسنگ دوبارہ کھلنے کے بعد غزہ سے بیرونِ ملک علاج کے خواہش مند مریضوں کے طبی انخلا (میڈیکل ایویکوایشن) کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں

اقوام متحدہ ۔11جون (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی اداروں نے اعلان کیا ہے کہ مصر کی سرحد پر واقع رفح بارڈر کراسنگ دوبارہ کھلنے کے بعد غزہ سے بیرونِ ملک علاج کے خواہش مند مریضوں کے طبی انخلا (میڈیکل ایویکوایشن) کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے دو روزہ بندش کے بعد رفح کراسنگ بدھ کے روز محدود تعداد میں دونوں سمتوں میں سفر کرنے والے افراد کے لیے دوبارہ کھول دی گئی۔ اس دوران غزہ واپس آنے والے افراد کو بھی امدادی سہولیات فراہم کی گئیں۔او سی ایچ اے نے بتایا کہ خوراک اور دیگر انسانی امدادی سامان کی ترسیل کے لیے کرم شالوم (کرم ابو سالم) کراسنگ بھی دوبارہ فعال کر دی گئی ہے۔ تاہم سامان کی نقل و حمل کے لیے فی الحال یہی واحد راستہ دستیاب ہونے کے باعث امدادی سرگرمیاں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کے مطابق گزشتہ ماہ غزہ میں تقریباً 14 لاکھ افراد تک مختلف اقسام کی امداد پہنچائی گئی، جن میں غذائی پیکجز، روٹی، گرم کھانے اور غذائی قلت کے علاج کی سہولیات شامل تھیں۔ ادارے نے تقریباً پانچ لاکھ افراد کو نقد مالی امداد بھی فراہم کی۔او ایچ سی ایچ آر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور طبی خدمات میں رکاوٹ سمیت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے باز رہے۔اقوامِ متحدہ نے ایک بار پھر شہریوں، بالخصوص طبی عملے کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے مکمل احترام پر زور دیا ہے۔