ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستان کا آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبہ نئی بلندیوں پر پہنچ گیا

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی گزشتہ تین برسوں پر محیط مؤثر سہولت کاری اور پالیسی تعاون کے نتیجے میں پاکستان کے آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں

اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی گزشتہ تین برسوں پر محیط مؤثر سہولت کاری اور پالیسی تعاون کے نتیجے میں پاکستان کے آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جبکہ ملک تیزی سے خطے کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر اپنی شناخت مستحکم کر رہا ہے۔ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاکستان میں آئی ٹی سی این ایشیا 2026 سمیت بڑے بین الاقوامی ٹیکنالوجی ایونٹس کا کامیاب انعقاد ممکن ہوا، جس سے عالمی سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ماہرین کی توجہ پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کی جانب مبذول ہوئی۔اسی طرح انڈس اے آئی ویک 2026 نے مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرنے کے لیے وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے "اے آئی سیکھو 2026” پروگرام کا آغاز بھی کیا گیا، جسے ڈیجیٹل استعداد کار بڑھانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ڈیجیٹل شعبے میں سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے ایس آئی ایف سی کی معاونت سے سپرنیٹ گلوبل کی توسیع عمل میں آئی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور زرمبادلہ کے حصول میں خاطر خواہ اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ایس آئی ایف سی کی مؤثر حکمت عملی کے تحت ملک میں فائیو جی سپیکٹرم کے آغاز کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے، جس سے تیز رفتار رابطوں، جدید کاروباری مواقع اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کا نیا باب کھلنے کی توقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق رواں سال پاکستان کے سٹارٹ اپ ایکوسسٹم کی مجموعی مالیت 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جو 2020 کے بعد نمایاں ترقی کی عکاسی کرتی ہے اور ملک میں اختراع، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔ماہرین کے مطابق ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری، مربوط پالیسی اقدامات اور سرمایہ کار دوست ماحول نے پاکستان کے آئی ٹی شعبے کو عالمی معیار کے قریب لانے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ڈیجیٹل ترقی کے ایک مضبوط ماڈل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے مزید وسعت اختیار کرنے اور عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔