تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےباوجود معیشت آج مستحکم ہے، موجودہ حکومت کے تیسرے بجٹ سے معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہو جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب
تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےباوجود معیشت آج مستحکم ہے، موجودہ حکومت کے تیسرے بجٹ سے معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہو جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔12جون (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےباوجود معیشت آج مستحکم ہے، موجودہ حکومت کے تیسرے بجٹ سے معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہو جائے گا، عوام نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور مہنگائی برداشت کی اس پر پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، وفاق اور صوبوں کے مابین ہم آہنگی سے تمام چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے، آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی اور ہماری کاوشوں کو سراہا ہے، خوشحالی قوم کا مقدر ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز ہیلی کاپٹر حادثہ میں شہید ہونے والے جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی، شہید ہونے والوں میں پاک فوج کے افسران، جوان اور دو مسیحی بھائی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر حادثہ کے دلخراش واقعہ نے ہر آنکھ اشکبار کر دی، یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، بالآخر دہشت گردی کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج وفاقی کابینہ کا ایک نکاتی ایجنڈا وفاقی بجٹ ہے، آج ہماری حکومت تیسرا وفاقی بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔
پہلے دو بجٹوں میں ملک اور آئی ایم ایف کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ملکی ترقی کے راستے کھولنے کے لئے کئی سالوں سے ہچکولے کھاتی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے ٹیکسز لگانا پڑے جس سے عام آدمی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے اپنی اور وفاقی کابینہ کی طرف سے 24 کروڑ عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے صبر و تحمل سے مہنگائی برداشت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں عام آدمی کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے، گزشتہ 2 سال کے دوران حکومتی کاوشوں سے مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آ گئی، پالیسی ریٹ بھی 22.5 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آیا، خلیج کی صورتحال کے باعث کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم تمام معاشی چیلنجز کے باوجود ہماری معیشت آج مستحکم ہے۔
انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ تیسرا بجٹ ہماری معیشت کو مزید تیزی سے آگے لے کر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ وزیراعظم نے سولر، ونڈ اور بیٹری سٹوریج جیسے توانائی ذرائع پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لانا ہوگا اور ہمیں پانی کے ذخائر اور ڈیمز تعمیر کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کو بنانے میں بہت چیلنجز درپیش تھے۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان معاشی اہداف کے حوالے سے مثبت گفتگو ہوئی، قومی ہم آہنگی اور مؤثر تعاون سے چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے وفاق کے ساتھ بھرپور تعاون پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میرے قائد محمد نواز شریف کی وفاق اور پنجاب میں ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔
انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے مثبت کردار کا بھی شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ نے بھی وفاق کے ساتھ تعاون کیا اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا، وفاق کو اضافی فنڈز کی ضرورت ہے جس کے لئے صوبوں کے ساتھ بامعنی بات چیت کی اور صورتحال ان کے سامنے رکھی، صوبوں نے بھرپور تعاون کیا، قومی وحدت، یکجہتی اور اتحاد کا اس سے بہتر مظاہرہ نہیں ہو سکتا۔
وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا جس نے صوبوں سے مشاورت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے معاشی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا جس نے آئی ایم ایف کے ساتھ شبانہ روز محنت کرکے معاشی استحکام کے لئے کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے خود آئی ایم ایف کی سربراہ سے بات چیت کی، انہوں نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ہماری کاوشوں سے متاثر ہیں۔ وزیراعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت خوشحالی قوم کا مقدر ہوگی۔
انہوں نے کابینہ کو اپنے حالیہ دورہ چین پر بھی اعتماد میں لیا اور بتایا کہ چین کے حالیہ دورے میں سی پیک فیز 2.0 پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، دونوں اطراف سے چار نکات پر بھرپور توجہ دینے پر اتفاق ہوا۔ وزیراعظم نے پاکستان پیپلز پارٹی، بی اے پی، نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم سمیت حکومت کی اتحادی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا








