وفاقی بجٹ پر قومی اسمبلی میں بحث، زراعت اور تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف پر زور
قومی اسمبلی کا اجلاس،ارکان اسمبلی کا زراعت کے شعبہ پر خصوصی توجہ مرکوزکرنےاور کم آمدنی والوں کوریلیف فراہم کرنے کی ضرور ت پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اراکین اسمبلی نے زراعت کے شعبہ پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے، کم آمدنی والوں کیلئے ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاشتکاروں کو دی جانے والی سبسڈی میں مڈل مین کا کردار ختم ہونا چاہئے، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھایا جائے۔
اتوار کو قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن رکن سلیم الرحمان نے کہا کہ سوات کا انحصار سیاحت پر ہے ،دہشت گردوں نے اس کو تباہ کردیا،ہماری شاہراہیں بھی خستہ حال ہیں،اس سے بھی سیاحت متاثر ہو رہی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے رکن صادق میمن نے کہا کہ وزیر اعظم نے مفاہمت کی بات کی جو خوش آئند ہے۔سندھ میں پانی کی قلت ہے،1991 کے سندھ طاس معاہدہ کو تحفظات کے باوجود قومی مفاد میں قبول کیا، ٹھٹھہ، مکلی میں پینے کا پانی دستیاب نہیں۔ کوسٹل ہائی وے کے لئے 20 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز قابل تعریف ہے۔ اپوزیشن رکن شہزادہ محمد گستاسپ خان نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو کئی معاملات میں خود مختاری دی گئی، نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں اس سے اچھی حکمرانی دے سکیں گے۔ مسلم لیگ ن کی رکن آسیہ ناز تنولی نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے،قومی شجر کاری مہم میں ہر سال ایک ارب پودے لگائے جائیں۔الیکٹرک بسوں اور گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ فیصل امین گنڈا پور نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کے لوگوں کا حصہ شامل نہیں ہے۔ رسول بخش چانڈیو نے کہا کہ سکھر حیدر آباد موٹروے کے فنڈز میں اضافہ کیا جائے۔محمد شبیر علی قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دی جائے۔ صلاح الین جونیجو نے کہا کہ سندھ میں پانی کی کمی دور کرنے کیلئے وزیراعظم اپنا کردار ادا کریں۔ صاحبزادہ امیر سلطان نے کہا کہ صنعتکاروں اور پروفیشنلز کو ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ہم اپنے پرچم اور ملک کے قانون کے اندر رہ کر پختونوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کریں گے۔کے پی میں بدامنی عروج پر ہے، پی ٹی آئی کے رہنما اڈیالہ ٹک ٹاک بنانے روزانہ آجاتے تاہم صوبے میں 13 سال سے ان کی حکومت ہے عوام کیلئے انہوں نے کیا کیا ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں مناسب اضافہ کیاگیا ہے۔ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کی وجہ سے دنیا میں نمایاں مقام پر کھڑا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن سید عبدالقادر گیلانی نے کہا کہ اربنائزیشن کے حوالے سے پالیسی بنائی جائے، کھاد پر دی جانی والی سبسڈی دینے کے لئے کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کیا جائے تاکہ مڈل مین فائدہ نہ اٹھا سکے۔کاشتکار کو خودکفیل بنایا جائے اسے مزید قرضوں میں نہ جھکڑا جائے۔ بجٹ میں کسانوں کو دیئے جانے والے قرض کو سبسڈی میں منتقل کریں۔ غزالہ انجم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرکی قیادت میں پاکستان نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے چترال کیلئے اربوں روپے کے دو بڑے منصبوے دیئے جن میں لواری ٹنل بھی شامل تھا، مسلم لیگ (ن) کی جب بھی حکومت بنی خیبرپختونخوا کو ترقی کے عمل میں قومی دھارے میں لایا۔ حکومت نے ملک کے پسماندہ علاقوں میں دانش سکول قائم کئے۔ ڈاکٹر شائستہ جدون نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نوازشریف کے وژن کو عملی جامہ پہنایا ہے، ہزارہ ڈویژن کے پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات ناکافی ہیں، صوبہ ہزارہ ہمارا حق ہے۔








