راچی پورٹ نے تقریباً آٹھ سال بعد پہلی مرتبہ ایک سال میں 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جو ملک میں بحری تجارت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے بحری دروازے کی مضبوط ہوتی اہمیت کا مظہر ہے۔
کراچی پورٹ پر ایک سال میں 2 ہزار جہازوں کی آمد، بحری تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا، جنید انوار چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):کراچی پورٹ نے تقریباً آٹھ سال بعد پہلی مرتبہ ایک سال میں 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جو ملک میں بحری تجارت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے بحری دروازے کی مضبوط ہوتی اہمیت کا مظہر ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 سے 13 جون 2026 تک کراچی پورٹ پر مجموعی طور پر 2 ہزار 3 جہاز لنگر انداز ہوئے، جو مالی سال 2017-18 کے بعد پہلی مرتبہ 2 ہزار جہازوں کی حد سے تجاوز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران کراچی پورٹ پر آنے والے جہازوں کا مجموعی گراس رجسٹرڈ ٹنیج 8 کروڑ 44 لاکھ 30 ہزار ٹن سے زائد رہا، جو بندرگاہ پر جاری وسیع پیمانے کی بحری سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں جہازوں کی آمد میں 7.5 فیصد جبکہ گراس رجسٹرڈ ٹنیج میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کارگو کی نقل و حمل اور بحری ٹریفک میں مسلسل نمو کا ثبوت ہے۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان کی بحری تجارت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی عکاس ہے اور اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ کراچی پورٹ ملک کے تجارتی اور لاجسٹک نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے درآمدات اور برآمدات کا بڑا حصہ انجام پاتا ہے۔
چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد نے اس پیش رفت کا سہرا بحری سرگرمیوں میں اضافے، آپریشنل کارکردگی میں بہتری اور بین الاقوامی شپنگ لائنز کے مسلسل اعتماد کو دیا انہوں نے کہا کہ 1887 میں قائم ہونے والا کراچی پورٹ آج بھی کنٹینرائزڈ کارگو، بلک کموڈیٹیز اور عمومی تجارتی سامان کی نقل و حمل کا اہم مرکز ہے، جو پاکستان کو خطے اور دنیا کی بڑی بحری تجارتی راہداریوں سے جوڑتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جہازوں کی آمد میں اضافہ پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، جو کاروباری سرگرمیوں میں وسعت اور بندرگاہی انفراسٹرکچر کے مؤثر استعمال کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سنگِ میل کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ٹیم کی مسلسل کاوشوں، بحری رابطوں کے فروغ، بندرگاہی نظام کی جدید خطوط پر استواری اور لاجسٹکس و میری ٹائم شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کا نتیجہ ہے۔ جنید انوار چوہدری کے مطابق اس کامیابی سے کراچی پورٹ کی حیثیت پاکستان کے صفِ اول کے بحری تجارتی مرکز کے طور پر مزید مستحکم ہوگی اور ملکی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کی قومی کوششوں کو تقویت ملے گی۔







