پنجاب بار کونسل نے وکلا کی انرولمنٹ عمل کو مزید شفاف اور قانون کے مطابق بنانے کیلئے نئی ہدایات جاری کر دیں

پنجاب بار کونسل نے وکلا کی انرولمنٹ کے عمل کو مزید شفاف اور قانون کے مطابق بنانے کے لیے نئی ہدایات جاری کر دیں۔ پنجاب بار کونسل کے جنرل ہائوس کے 13 جون 2026 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے کہ ایچ ای سی سے تعلیمی اسناد کی تصدیق کے بغیر کسی بھی امیدوار کو بطور ایڈووکیٹ اندراج کا لائسنس جاری نہیں کیا …

لاہور۔15جون (اے پی پی):پنجاب بار کونسل نے وکلا کی انرولمنٹ کے عمل کو مزید شفاف اور قانون کے مطابق بنانے کے لیے نئی ہدایات جاری کر دیں۔ پنجاب بار کونسل کے جنرل ہائوس کے 13 جون 2026 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے کہ ایچ ای سی سے تعلیمی اسناد کی تصدیق کے بغیر کسی بھی امیدوار کو بطور ایڈووکیٹ اندراج کا لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جن امیدواروں کی ایل ایل بی کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل ہائر ایجوکیشن کمیشن میں زیر التوا ہوگا، انہیں لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا اور تصدیق مکمل ہونے تک ان کا اندراج مخر رکھا جائے گا۔پ

ریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پہلے سے رجسٹرڈ وکلا بھی اپنی تعلیمی اسناد کی ایچ ای سی سے تصدیق کرانے کے پابند ہوں گے، بصورت دیگر ان کے لائسنس کی تجدید نہیں کی جائے گی۔اسی طرح ہائی کورٹ میں بطور ایڈووکیٹ اندراج کے خواہشمند امیدواروں کو بھی ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ایل ایل بی ڈگری پیش کرنا لازم ہوگی اور تصدیق مکمل ہونے تک ان کا ہائی کورٹ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔

پنجاب بار کونسل نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ غیر ملکی لا ڈگری یا ایل ایل بی پروگرام کی بنیاد پر اندراج کے خواہش مند امیدواروں کو ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ مساویتی سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوگا، جس کے بغیر اندراج کا عمل مکمل نہیں کیا جائے گا۔مزید برآں، ایسے وکلا جن کا اندراج غیر ملکی لا ڈگری یا ایکسٹرنل ایل ایل بی پروگرام کی بنیاد پر پہلے ہی ہو چکا ہے،

ان کے لائسنس کی تجدید مشروط کر دی گئی ہے اور انہیں ایچ ای سی کا مساویتی سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا، ورنہ بطور ایڈووکیٹ ان کی رجسٹریشن برقرار نہیں رکھی جائے گی۔پنجاب بار کونسل نے خبردار کیا ہے کہ ان ہدایات پر فوری طور پر عملدرآمد ہوگا اور خلاف ورزی، غلط بیانی یا حقائق چھپانے کی صورت میں متعلقہ امیدوار یا وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں اس کی رکنیت بھی منسوخ کی جا سکتی ہے۔