چیئرپرسن جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان شاخ کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا اور حریت قیادت سے ملاقات کی
چیئرپرسن جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کا حریت کانفرنس آزادکشمیر و پاکستان شاخ کے مرکزی دفتر کا دورہ، حریت قیادت سے ملاقات
اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):چیئرپرسن جموں و کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان شاخ کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا اور حریت قیادت سے ملاقات کی۔منگل کو یہاں جاری بیان کے مطابق اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ 78 برسوں سے اپنی آزادی اور حق خودارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے شہادتیں، قید و بند کی صعوبتیں اور عزت و عصمت کی قربانیاں برداشت کیں، لیکن ان کے جذبہ حریت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے بھارتی عدالتوں کی جانب سے حریت رہنمائوں کو جعلی اور بے بنیاد مقدمات میں سزائیں سنائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ عالمی انصاف کے ادارے اور دنیا بھر کے ممالک اس کا سخت نوٹس لیں ۔ ان اقدامات سے بھارت کا نام نہاد سیکولر تشخص مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کا مسئلہ صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں پاکستان کی حکومت، سیاسی جماعتوں، قومی اداروں اور عوام کو مسئلہ کشمیر پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت نے اپنے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں متعدد خونریز واقعات کو جنم دیا ہے اور اب وہ تیزی کے ساتھ خطے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں غیر ریاستی باشندوں کو مقبوضہ علاقے میں آباد کیا جا رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روح کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں، اداروں اور قومی شخصیات کے ساتھ روابط موجود ہیں اور کانفرنس کی خواہش ہے کہ پاکستان میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک متفقہ قومی بیانیہ اپنایا جائے جس کی بنیاد کشمیری عوام کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تسلیم شدہ حق خودارادیت پر ہو۔اس موقع پر نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ نے آزادکشمیر میں حالیہ پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین دانشمندی، تحمل اور افہام و تفہیم کا مظاہرہ کریں اور موجودہ معاملات کا پرامن، آئینی اور باوقار حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی یا عدم استحکام نہ صرف آزاد کشمیر کے امن و استحکام کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ تحریک کشمیر، عوامی مفادات اور وسیع تر علاقائی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھی آزاد کشمیر کے موجودہ حالات کے تناظر میں تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ صبر، بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو مذاکرات، افہام و تفہیم اور پرامن ذرائع سے حل کریں۔حریت کانفرنس نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد کشمیر تحریک کشمیر کا بیس کیمپ ہے، لہٰذا یہاں امن، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کا برقرار رہنا نہایت اہم ہے تاکہ تحریک آزادی کشمیر کو کسی بھی قسم کے منفی اثرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ملاقات کے اختتام پر بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انتقال کر جانے والی اشفاق اللہ شال کی والدہ ماجدہ، شہدائے کشمیر اور دیگر مرحومین کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔اس موقع پر کنوینر غلام محمد صفی، محمد فاروق رحمانی، محمود احمد ساغر، سید یوسف نسیم، شمیم شال، شیخ محمد یعقوب، شیخ عبدالمتین، الطاف احمد بٹ، سید اعجاز رحمانی، راجہ خادم حسین، سلطان احمد بٹ، زاہد صفی، میاں مظفر، محمد اشرف ڈار، شیخ عبدالماجد، عدیل مشتاق وانی، عبدالمجید لون، کفایت حسین رضوی، عبدالماجد اور امتیاز وانی بھی موجود تھے۔









