سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جمہوریت کی روح انتخابات ہیں اور یہ آئینی طور پر مقررہ وقت پر ہر صورت منعقد ہونے چاہئیں۔
آزاد کشمیر میں انتخابات آئینی طور پر مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں، راجہ فاروق حیدر
اسلام آباد۔15جون (اے پی پی):سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جمہوریت کی روح انتخابات ہیں اور یہ آئینی طور پر مقررہ وقت پر ہر صورت منعقد ہونے چاہئیں۔یہاں اسلام آباد میں پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ انتخابی شیڈول میں تاخیر آئین کی روح کے منافی ہے، الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا،اسمبلی تحلیل ہو تو 90 دن کے اندر انتخابات لازم ہیں، یہ قانون نہیں جمہوریت کی بنیاد ہے۔راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، آٹے اور بجلی پر سبسڈی کا سلسلہ جاری رہے گا، مشکل معاشی حالات کے باوجود حکومت پاکستان نے 23 ارب روپے کی ابتدائی معاونت فراہم کی، یہ عوامی ریلیف کا تسلسل ہے،آئین کے اندر رہ کر جدوجہد ہی واحد راستہ ہے، سڑکیں اور ہنگامے نہیں بلکہ قانون اور دلیل تبدیلی لاتے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ریاستی ادارے امن کے قیام کے لیے ہم آہنگ ہیں، ضرورت پڑنے پر حکومت آزاد کشمیر فورسز بھی طلب کر سکتی ہے،ہڑتالوں اور احتجاج سے متعلق فیصلے آئینی دائرے میں کیے گئے، مقصد صرف امن و امان کا تحفظ ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ عوام کے حقوق بھی آئین کے اندر ہیں اور فرائض بھی، دونوں میں توازن ہی ریاست کو مضبوط بناتا ہے،سیاسی جماعتوں اور عوام سے اپیل ہے کہ برداشت، قانون اور جمہوری اصولوں کو مقدم رکھیں۔سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ آئین آزاد کشمیر شہریوں کو اجتماع ، تنظیم سازی اور اظہارِ رائے کی مکمل آزادی دیتا ہے، مگر یہی آئین ذمہ داریوں کا بھی تقاضا کرتا ہے،آزادی کے ساتھ قانون کی پاسداری لازم ہے، انتشار، نفرت اور ریاستی وحدت کے خلاف ہر عمل قابل گرفت ہے۔









