وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر معاہدے کے نکات پرعملدرآمد کیلئے سنجیدہ کوششیں کی ہیں، سابق پاٹا اورفاٹا میں ٹیکس استثنیٰ کی مدت میں اضافہ کرنا چاہئے
وفاقی حکومت نے آزادکشمیر حکومت کے ساتھ مل کر معاہدے کے نکات پرعملدرآمد کیلئے سنجیدہ کوششیں کیں، سابق پاٹا اورفاٹا میں ٹیکس استثنیٰ کی مدت میں اضافہ کرنا چاہئے، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر معاہدے کے نکات پرعملدرآمد کیلئے سنجیدہ کوششیں کی ہیں، سابق پاٹا اورفاٹا میں ٹیکس استثنیٰ کی مدت میں اضافہ کرنا چاہئے۔ منگل کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انجینئر امیر مقام نے کہاکہ جنیوا میں اسلام آباد معاہدہ پر پوری پاکستانی قوم مبارکباد کی مستحق ہے، وزیراعظم، فیلڈمارشل اورپوری ٹیم کی اخلاص اور انتھک محنت سے امن کا قیام ممکن ہوا، اس سے قبل معرکہ حق میں ہم نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کوشکست دی، 10مئی سے پاکستان دنیا کے نقشے پرایک نئی شکل میں سامنے آیا ہے۔انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں شفاف الیکشن ہواہے، تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن مہم میں حصہ لیا،2013میں ہم خیبرپختونخوا میں ہم حکومت بنا سکتے تھے مگر محمد نواز شریف نے واضح طورپرکہاکہ وہاں زیادہ نشستیں لینے والی جماعت کوحکومت بنانی چاہئے، اسی طرح گلگت بلتستان میں انتخابات کے بعد وزیراعظم نے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت کی حکومت سازی کی حمایت کی ہے۔
آزاد کشمیرکی صورتحال کاذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مطالبات کے حوالہ سے کشمیرایکشن کمیٹی بنی جس نے مذاکرات کئے اور 38 نکات پرمعاہدہ ہوا، معاہدے پرعملدرآمد کیلئے مسلسل میٹنگزبھی ہوئیں، ایک مطالبہ پرقانونی کمیٹی بنائی گئی ہے، معاہدے کے تمام نکات پرعملدرآمد کیلئے ہم سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں، ہماراموقف واضح ہے کہ انتخابات ہوں اورمنتخب لوگ فیصلہ سازی کریں۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ ملک اورلوگوں کے حقوق کیلئے ہم اپنا کرداراداکرتے رہیں گے، میں نے 22مقدمات کا خود سامنا کیا ہے۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ سابق فاٹا اورپاٹا نے پاکستان کیلئے بہت قربانیاں دی ہے، اس علاقہ کے لوگ پاکستان اور قیام امن کیلئے اپنے ملک میں مہاجرین بھی بنے ہیں، ان علاقوں میں چھوٹے کاروبارکرنے والوں پرکوئی ٹیکس نہیں ہونا چاہئے، ان علاقوں میں ٹیکس استثنیٰ کیلئے ہم نے ماضی میں سابق وزیراعظم نوازشریف سے رابطہ کیا ،اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف نے 2025تک ٹیکس استثنیٰ کاہمارامطالبہ تسلیم کیا، آج بھی ہم نے چیئرمین ایف بی آر سے رابطہ کیا ہے، موجودہ حالات میں سابق فاٹا اورپاٹا میں ٹیکس کااطلاق نہیں ہونا چاہئے، یہ ہم سب کامسئلہ ہے۔انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے 9اضلاع کے تمباکوکے کاشتکاروں کے مسائل کوحل کرنا چاہئے اوراس کیلئے وفاقی اورصوبائی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔
وفاقی وزیرنے کہاکہ خیبرپختونخوا میں تین بارمینڈیٹ لینے والی جماعت کو اپنے صوبہ میں احتجاج اورسڑکیں بندکرنے کی بجائے صوبہ کے عوام کی خدمت کرنی چاہئے۔








