ٹیکس کا نفاذ آئینی حدود اور بنیادی حقوق کے تابع ہے،وفاقی آئینی عدالت کا تفصیلی فیصلہ جاری

ٹیکس کا نفاذ آئینی حدود اور بنیادی حقوق کے تابع ہے،وفاقی آئینی عدالت کا تفصیلی فیصلہ جاری

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی آ ئینی عدالت نے انکم ٹیکس قانون کے سیکشن 7E کو کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہےجس میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس کا نفاذ آئینی حدود اور بنیادی حقوق کے تابع ہے۔92 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ چیف جسٹس آ ئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس کسی بھی عوامی مقصد کے لیے نافذ کیا جا سکتا ہے اور نافذ شدہ ٹیکس کا بوجھ اجتماعی طور پر عوام اٹھاتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس کے نفاذ کا دارومدار اس بات پر نہیں کہ اس سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے، بلکہ عدالت کو ٹیکس کے آئینی جواز کا جائزہ لینا ہوتا ہے نہ کہ اس کے مقاصد کا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کوئی بھی قانون اگر بنیادی حقوق کے منافی ہو یا قانون سازی کے اختیار سے تجاوز کرے تو اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ عدالت کے مطابق سیکشن 7E دراصل غیر منقولہ جائیداد سے آمدن پر نہیں بلکہ اس کی ملکیت پر ٹیکس عائد کرتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ سیکشن 7E کے تحت غیر منقولہ جائیداد کی مالیت کا پانچ فیصد ٹیکس لاگو کیا گیا تھا، چاہے اس سے آمدن حاصل ہو یا نہ ہو۔ فیصلے میں کہا گیا کہ صرف فرضی آمدن پر ٹیکس عائد کرنا آئینی حقوق کے خلاف ہے اور ٹیکس کا اطلاق حقیقی آمدن پر ہونا چاہیے۔فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار صرف ان شعبوں میں حاصل ہے جو آئین کے تحت وفاق کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں جبکہ غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس کا معاملہ صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ آئین ہر شہری کو جائیداد رکھنے اور حاصل کرنے کا حق دیتا ہے اور غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت پر بلا آمدن ٹیکس بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ مالیاتی قوانین کا ماضی سے اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ سیکشن 7E کا مقصد صرف ریونیو میں اضافہ نہیں بلکہ غیر منقولہ جائیداد رکھنے کی حوصلہ شکنی بھی تھا تاہم اسے فنانس بل کے ذریعے شامل کرنا آئینی طور پر درست نہیں۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ غیر منقولہ جائیداد پر بلاواسطہ یا بالواسطہ ٹیکس کا نفاذ وفاق کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا جبکہ منقولہ اثاثوں کی ویلیو پر ٹیکس لگانا وفاقی اختیار میں شامل ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ مخصوص طبقوں کو دی گئی رعایتوں کی ٹھوس اور واضح وجہ بیان نہیں کی گئی جو آئینی اصولوں کے منافی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ بنچ کی تشکیل چیف جسٹس کی صوابدید ہے اور قانونی رکاوٹ نہ ہونے کی صورت میں دو رکنی بنچ بھی مقدمات کی سماعت کا اہل ہے۔واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت