تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی ترقی کے شعبوں کو بھی مناسب وسائل فراہم کرنا ناگزیر ہے، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز (پی پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ عوام کی معاشی اور سماجی فلاح و بہبود کو بھی یکساں اہمیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم، صحت

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز (پی پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ عوام کی معاشی اور سماجی فلاح و بہبود کو بھی یکساں اہمیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی ترقی کے شعبوں کو بھی مناسب وسائل فراہم کرنا ناگزیر ہے۔قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سحر کامران نے مسلح افواج اور وطن کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قومی سلامتی ملک کی اولین ترجیح ہے لیکن آئین کے مطابق شہریوں کو معاشی اور سماجی تحفظ کی فراہمی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی ترقی کے شعبوں کے لئے مختص فنڈز ناکافی ہیں جبکہ مالی مشکلات کی ایک بڑی وجہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کمزور محصولات وصولی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر کو 28 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا جس سے ٹیکس نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے ٹیکس انتظامیہ میں احتساب اور کارکردگی کے مؤثر جائزے کا مطالبہ کیا۔

سحر کامران نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاربن ٹیکس اور پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی سمیت اضافی محصولات کے باعث ایندھن مہنگا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے، کم از کم تنخواہ کے معیار کو بہتر بنانے اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لئے مزید ریلیف اقدامات متعارف کرانے کی تجویز بھی پیش کی۔سحر کامران نے کہا کہ زراعت قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن پالیسی خامیوں کے باعث یہ شعبہ سنگین مشکلات سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ترقی کی شرح مقررہ اہداف سے کم رہی جبکہ گندم، چاول اور مکئی سمیت اہم فصلوں کی پیداوار میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے زرعی تحقیق، آبپاشی کے نظام اور جدید زرعی ٹیکنالوجی میں ناکافی سرمایہ کاری پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسان کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پانی کی مسلسل قلت جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے زرعی شعبے کی بحالی اور کسانوں کی معاونت کے لئے جامع حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔