زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے شوگرکین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے اشتراک سے 15 سوڈانی ماہرین کے لیے گنے کی پیداوار سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز پر مشتمل چار ہفتوں کے جامع تربیتی پروگرام کا آغاز کر دیا ہے
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں سوڈانی ماہرین کے لیے گنے کی پیداوار سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز پر مشتمل جامع تربیتی پروگرام کا آغاز

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 17 جون (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے شوگرکین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے اشتراک سے 15 سوڈانی ماہرین کے لیے گنے کی پیداوار سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز پر مشتمل چار ہفتوں کے جامع تربیتی پروگرام کا آغاز کر دیا ہے، جس کے بعد انہیں صنعتی دورے بھی کروائے جائیں گے۔ اس موقع پر وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس نوعیت کے بین الاقوامی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گنا ملک کی دوسری بڑی ایگروبیسڈ شوگر انڈسٹری کے لیے بنیادی خام مال فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2025-26ئ کے دوران ملک میں گنے کی پیداوار 6.2 فیصد اضافے کے ساتھ 89.45 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ فی ہیکٹر پیداوار میں 3.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 73,200 کلوگرام فی ہیکٹر رہی۔ شوگرکین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر شاہد افغان نے کہا کہ ان کا ادارہ گنے کی پوری ویلیو چین میں موجود صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور خامیوں کی نشاندہی و تدارک کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس میں کاشتکاروں، زرعی مداخل، پراسیسنگ انڈسٹری اور صارفین تک چینی کی مؤثر ترسیل کے تمام مراحل شامل ہیں۔ انہوں نے غذائی استحکام کے لئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ یہ تربیتی پروگرام یونیورسٹی کے شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر شاہد افغان (سی ای او، ایس آر ڈی بی)، مسٹر جمال (سوڈانی صدر کے مشیر)، پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر (کنسلٹنٹ، ایس آر ڈی بی)، چیئرمین شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس پروفیسر ڈاکٹر عظیم اقبال اور فوکل پرسن ڈاکٹر محمد منعم خان نے سوڈانی وفد کا استقبال کیا۔ وفد نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مرکز برائے اعلیٰ تعلیم اور سیڈ سنٹر کا بھی دورہ کیا۔








