عالمی تجارت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیشِ نظر پاکستانی صنعتوں کو ماحول دوست اور پائیدار کاروباری طریقہ کار اپنانا ہوگا ، فاروق یوسف شیخ

فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے کہا ہے کہ عالمی تجارت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیشِ نظر پاکستانی صنعتوں کو ماحول دوست اور پائیدار کاروباری طریقہ کار اپنانا ہوگا تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مسابقت برقرار رکھی جا سکے

فیصل آباد۔ 17 جون (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے کہا ہے کہ عالمی تجارت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیشِ نظر پاکستانی صنعتوں کو ماحول دوست اور پائیدار کاروباری طریقہ کار اپنانا ہوگا تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مسابقت برقرار رکھی جا سکے۔وہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈیپ )کے تعاون سے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم ) کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر ملک کا تیسر ابڑا چیمبر اور فیصل آباد ریونیو جنریشن کے حوالے سے دوسر ابڑا شہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد پاکستان کا ایک اہم صنعتی و تجارتی مرکز ہے جہاں ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ فارماسوٹیکل، ڈیری، آٹو پارٹس، آٹو موبائل اور دیگر متعدد صنعتیں قومی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر نہ صرف کاروباری برادری اور حکومتی اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ شہر کی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بھی اپنا مؤثر کردار نبھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم کے نفاذ کے تناظر میں پاکستانی برآمدی صنعتوں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

ماضی میں صنعتوں کو ٹریس ایبلٹی، گرین مینوفیکچرنگ اور ری سائیکلنگ جیسے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا پڑا اور اب ماحول دوست پیداواری نظام عالمی تجارت کی ناگزیر ضرورت بنتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل صنعت پہلے ہی ری سائیکلنگ اور پائیدار پیداوار کے مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے جبکہ سرکلر اکانومی کے فروغ کے لیے بھی متعدد منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مقامی صنعتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ری سائیکلنگ کے شعبے کو مزید منظم بنانے کی ضرورت ہے۔صدر چیمبر نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ہمیشہ کاروباری برادری کی رہنمائی اور معاونت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سیمینارز صنعتکاروں کو عالمی تجارتی رجحانات، ماحولیاتی تقاضوں اور برآمدی مواقع سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیمینار کے دوران ہونے والی گفتگو اور ماہرین کی آراء سے صنعتکاروں کو درپیش چیلنجز کو بہتر انداز میں سمجھنے اور ان کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔

کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم ) کے حوالے سے منعقدہ آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل انجینئرنگ اینڈ منرل ڈویژن خالد رسول نے بتایا کہ یورپی یونین نے ماحولیاتی اہداف کے حصول اور کاربن اخراج میں کمی کے لیے سی بی اے ایم کا نفاذ شروع کر دیا ہے۔ جنوری 2026 ء سے اس نظام کے تحت سیمنٹ، آئرن اینڈ اسٹیل، ایلومینیم، فرٹیلائزر، ہائیڈروجن اور توانائی کے شعبوں کی برآمدات پر کاربن اخراج کی بنیاد پر اضافی لاگت عائد کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نظام تمام برآمد کنندہ ممالک پر یکساں طور پر لاگو ہے اور مستقبل میں اس کا دائرہ کار مزید شعبوں تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ سیشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستانی صنعتیں قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت، کاربن فٹ پرنٹ کی پیمائش اور بین الاقوامی ماحولیاتی معیارات کی پابندی پر فوری توجہ دیں تاکہ یورپی اور برطانوی منڈیوں میں اپنی مسابقت اور رسائی برقرار رکھ سکیں۔نائب صدر انجینئر عاصم منیر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ ڈائریکٹر جنرل انجینئرنگ اینڈ منرل ڈویژن خالد رسول نے صدر فاروق یوسف شیخ کو ٹی ڈیپ کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔

اس موقع پرسینئر نائب صدر فیصل آباد چیمبر نوید اکرم شیخ، ڈائریکٹر ٹی ڈیپ فیصل آباد راؤ فضل الرحمن، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹی ڈیپ لاہور عمر حسین باجوہ، حافظ کامران ڈپٹی ڈائریکٹر ٹی ڈیپ، جبار توقیر ڈپٹی ڈائریکٹر ٹی ڈیپ فیصل آباد اور نادیہ فاروقی ڈپٹی ڈائریکٹر ٹی ڈیپ لاہور بھی موجود تھیں۔