پاکستانی سائنسدانوں نے رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کا ہورائزن پرائز 2026 اپنے نام کر لیا

پاکستان کی سائنسی برادری نے ایک اہم بین الاقوامی کامیابی حاصل کرتے ہوئے برطانیہ کی معروف سائنسی تنظیم رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کا کیمسٹری بائیولوجی انٹرفیس ہورائزن پرائز 2026 اپنے نام کر لیا ہے

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):پاکستان کی سائنسی برادری نے ایک اہم بین الاقوامی کامیابی حاصل کرتے ہوئے برطانیہ کی معروف سائنسی تنظیم رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کا کیمسٹری بائیولوجی انٹرفیس ہورائزن پرائز 2026 اپنے نام کر لیا ہے۔یہ اعزاز عالمی سطح پر نظر انداز کی جانے والی متعدی بیماریوں (نیگلیکٹڈ ٹراپیکل ڈیزیزز) پر تحقیق کرنے والے گلوبل این ٹی ڈی نیٹ ورک کو دیا گیا جس میں سات ممالک کے سائنسدان شامل ہیں۔ اس بین الاقوامی نیٹ ورک میں پاکستانی ٹیم کی قیادت نامور سائنسدان کوآرڈینیٹر جنرل او آئی سی کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کی۔ رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی جانب سے یہ اعزاز لیشمانیاز اور شاگاس بیماری کے علاج کے لئے نئے ادویاتی اہداف کی نشاندہی اور ان کی کیمیائی و جینیاتی توثیق کے لئے جدید تحقیقی آلات کی تیاری میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔پاکستانی ٹیم میں پروفیسر ڈاکٹر سمیر یوسف اور ڈاکٹر صبا فاروق بھی شامل ہیں جو انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز، جامعہ کراچی کے تحت بالترتیب ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری اور ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

یہ بین الاقوامی تحقیقی منصوبہ میڈیکل ریسرچ کونسل کے تحت گلوبل چیلنجز ریسرچ فنڈ کے تعاون سے مکمل کیا گیا جبکہ اس کی قیادت ڈرہم یونیورسٹی نے کی۔ منصوبے میں برطانیہ، پاکستان، بھارت، برازیل، ارجنٹائن اور یوراگوئے سمیت متعدد ممالک کے سائنسدان شریک تھے جنہوں نے دنیا کے غریب اور پسماندہ علاقوں میں پائی جانے والی مہلک بیماریوں کے خلاف مشترکہ تحقیقی کاوشیں انجام دیں۔رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کا ہورائزن پرائز ان سائنسدانوں، تحقیقی اداروں اور بین الاقوامی اتحادوں کو دیا جاتا ہے جو سائنسی تحقیق اور اختراع کے میدان میں غیر معمولی خدمات سرانجام دیتے ہوئے انسانیت کی فلاح کے لئے نئی راہیں متعین کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی پاکستانی سائنسدانوں کی عالمی سطح پر صلاحیتوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ تحقیق، اختراع اور ادویات کی دریافت کے شعبے میں پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے اس اعزاز کو پوری قوم کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان محققین اور سائنسدانوں کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔