پاکستان اور چین کے کاروباری اداروں کا تعاون اقتصادی شراکت داری کا اہم ستون ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان اور چین کے کاروباری اداروں کے درمیان تعاون دونوں ممالک کی مضبوط ہوتی ہوئی اقتصادی شراکت داری کا اہم ستون ہے،حکومت ٹیکنالوجی، پائیدار صنعتی ترقی اور توانائی کے موثر استعمال کو فروغ دینے والی سرمایہ کاری کوفروغ دینے میں پرعزم ہے۔

اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان اور چین کے کاروباری اداروں کے درمیان تعاون دونوں ممالک کی مضبوط ہوتی ہوئی اقتصادی شراکت داری کا اہم ستون ہے،حکومت ٹیکنالوجی، پائیدار صنعتی ترقی اور توانائی کے موثر استعمال کو فروغ دینے والی سرمایہ کاری کوفروغ دینے میں پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں بی وائی ڈی گروپ اور میگا موٹر کمپنی کے وفد سے ملاقات میں کہی۔ وفد کی قیادت بی وائی ڈی گروپ کے نائب صدر اور بی وائی ڈی ایشیا پیسفک آٹو سیلز ڈویژن کے جنرل منیجر لیو شوئی لیانگ اور میگا موٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی خان کر رہے تھے۔وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے پاکستان میں بی وائی ڈی کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور موجودگی کو سراہا اور کہا کہ کاروباری اداروں کے درمیان تعاون پاکستان اور چین کی مضبوط ہوتی ہوئی اقتصادی شراکت داری کا اہم ستون ہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور انہیں یقین ہے کہ بی وائی ڈی اور میگا موٹر کمپنی کا مشترکہ منصوبہ صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار کے نئے مواقع اور برآمدات میں اضافے میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ لیو شوئی لیانگ نے وزیرِ خزانہ کو پاکستان میں بی وائی ڈی کی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی، میگا موٹر کمپنی کے اشتراک سے پاکستان میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا رہی ہے۔ انہوں نے الیکٹرک وہیکل شعبے کی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے بتایا کہ کمپنی کا مقامی مینوفیکچرنگ پلانٹ مقررہ شیڈول کے مطابق تعمیر کے مراحل طے کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی وائی ڈی اپنی مصنوعات کی رینج میں توسیع، مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری میں اضافہ، جدید چارجنگ ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افرادی قوت کی تربیت کے ذریعے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وفد نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے ایک ابھرتی ہوئی اور پرکشش منڈی ہے۔ وفد نے اپنے طویل المدتی وژن سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو خطے میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور برآمدات کا ایک اہم مرکز بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مقامی شراکت داروں کے تعاون سے چارجنگ انفراسٹرکچر کی توسیع اور پاکستانی انجینئرز و ٹیکنیشنز کی تربیت بھی منصوبے کا حصہ ہے۔میگا موٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسرعلی خان نے وزیرِ خزانہ کو بتایا کہ بی وائی ڈی کی عالمی توسیعی حکمتِ عملی میں پاکستان کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے مشترکہ منصوبے کے تحت پاکستان میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقامی مینوفیکچرنگ منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مرحلہ وار لوکلائزیشن منصوبے کی تفصیلات بھی پیش کیں، جس کے تحت مقامی وینڈرز اور سپلائرز کی شمولیت بڑھا کر پاکستان کی آٹو موبائل ویلیو چین اور صنعتی بنیاد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ عالمی رجحانات سے واضح طور پر الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے سفر کی نشاندہی ہورہی ہے ۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسی سرمایہ کاری کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کی جائے گی جو ٹیکنالوجی، پائیدار صنعتی ترقی اور توانائی کے موثر استعمال کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی بنیادیں اور بیرونی شعبے میں استحکام نے پیداواری سرمایہ کاری اور صنعتی توسیع کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا ہے۔انہوں نے الیکٹرک وہیکل شعبے کے لیے حکومتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وفد پر زور دیا کہ مقامی اسمبلنگ، مینوفیکچرنگ اور چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ ملک بھر میں مضبوط اور موثر چارجنگ نیٹ ورک کی دستیابی الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے پاکستان کی صنعتی ترقی میں چینی کمپنیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ بی وائی ڈی اور میگا موٹر کمپنی کی شراکت داری پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرے گی۔ملاقات کے دوران پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کے مستقبل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بی وائی ڈی کے وفد نے مختلف ممالک کے تجربات کی روشنی میں بتایا کہ ایسے ممالک میں جہاں چارجنگ انفراسٹرکچر ابھی ترقی کے مراحل میں ہو، وہاں مکمل الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کے دوران پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں ایک موثر اور تکمیلی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اجلاس میں پاکستان میں شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور قابلِ تجدید توانائی کو الیکٹرک ٹرانسپورٹ سے ہم آہنگ کرنے کے امکانات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ملاقات کے اختتام پر فریقین نے الیکٹرک ٹرانسپورٹ، مقامی مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، افرادی قوت کی تربیت اور ماحول دوست سفری نظام کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ پاکستان کو نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری، جدت اور برآمدات کے حوالے سے خطے کا ایک نمایاں مرکز بنایا جا سکے۔