وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ راولپنڈی ٹائیگرز کے قیام کا خواب حقیقت کے قریب پہنچ چکا ہے جس کے لیے 10 ہزار سے زائد نوجوان کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروا دی ہے، پنڈی ٹائیگرز کے ٹرائلز کل (19 جون) راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک مکمل میرٹ پر ہوں گے
راولپنڈی ٹائیگرز کے ٹرائلز کل ہوں گے، 20 کھلاڑیوں کا انتخاب کرکے لاہور قلندرز ہائی پرفارمنس سینٹر میں تربیت دی جائے گی، حنیف عباسی

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ راولپنڈی ٹائیگرز کے قیام کا خواب حقیقت کے قریب پہنچ چکا ہے جس کے لیے 10 ہزار سے زائد نوجوان کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروا دی ہے، پنڈی ٹائیگرز کے ٹرائلز کل (19 جون) راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک مکمل میرٹ پر ہوں گے جس میں سے 20 بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کر کے انہیں لاہور قلندرز ہائی پرفارمنس سینٹر میں باقاعدہ تربیت، کوچنگ اور پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں سی ای او لاہور قلندرز عاطف رانا اور سابق قومی کپتان یونس خان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بعض ناگزیر وجوہات کے باعث یہ ٹرائلز موخر کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو موبائل فون اور گھروں سے نکال کر کھیلوں کے میدانوں تک لانا ہماری اولین ترجیح ہے اور لاہور قلندرز نے ملک بھر سے گراس روٹ لیول پر ٹیلنٹ تلاش کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔حنیف عباسی نے پاکستان ریلوے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں ریلوے کے ذریعے عوام کو ایک بڑی خوشخبری اور سرپرائز دیا جائے گا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک میں 19ویں صدی کے ٹریکس موجود ہیں اور گزشتہ 10 سال سے مینٹیننس کا کام نہیں ہوا تھا تاہم اب ریلوے کی بگڑی ہوئی حالت کو بہتر کیا جا رہا ہے اور ہم اسے بھارت، ازبکستان، ایران اور برطانیہ سے بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ریلوے کے پاس بہت بڑا انفراسٹرکچر موجود ہے جسے دوبارہ اٹھایا جائے گا اور کرکٹ، ہاکی، ویٹ لفٹنگ اور ایتھلیٹکس سمیت تمام کھیلوں میں ریلویز سپورٹس کی بحالی کا کام کیا جائے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل فرنچائزز کو ان کے شہروں کا ریجن دے دینا چاہیے کیونکہ پنڈی ٹائیگرز میں صرف راولپنڈی کے کرکٹرز شامل ہوں گے تاکہ سب کو پتہ چلے کہ یہ واقعی راولپنڈی کی ٹیم ہے۔ انہوں نے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس نے پاکستان کو عالمی معیار کے کھلاڑی دیئے۔ حنیف عباسی نے عالمی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج پوری قوم کے لیے خوشی کا دن ہے، پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا لیا ہے اور عالمی برادری پاکستان کی قیادت کو سراہ رہی ہے۔ انہوں نے سابق کپتان یونس خان کو پاکستان کرکٹ کا ہیرو اور نوجوانوں کے لیے رول ماڈل قرار دیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق کپتان یونس خان نے بتایا کہ وہ خود بھی ماضی میں ریلویز کی طرف سے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کھیل چکے ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر مجھے ڈیپارٹمنٹ کی نوکری نہ ملتی تو شاید میں پاکستان کے لیے 10 ہزار رنز سکور نہ کر پاتا۔انہوں نے گراس روٹ سطح پر کھلاڑیوں کو منتخب کرنے پر لاہور قلندرز کی کوششوں کو سراہا اور خود کو ان کا فین قرار دیا۔سی ای او لاہور قلندرز عاطف رانا نے یونس خان کے تعریفی الفاظ پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ پاکستان کو جوڑتی ہے۔ انہوں نے ایک بڑے موقع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ماہ سے ’’گلوبل سپر لیگ‘‘ شروع ہونے جا رہی ہے جہاں لاہور قلندرز حصہ لے گی اور پنڈی ٹائیگرز کے ٹرائلز میں سے منتخب ہونے والے ایک بہترین کھلاڑی کو گیانا (برائے گلوبل سپر لیگ) بھیجا جائے گا۔ انہوں نے ماضی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2017ء میں گوجرانوالہ ٹرائلز کے دوران 19 ہزار نوجوان آئے تھے اور آخری کھلاڑی جو گیٹ توڑ کر سٹیڈیم پہنچا تھا، وہ حارث رئوف تھا جو آج دنیا کا مانا ہوا بولر ہے۔ پنڈی ٹائیگرز بھی اسی طرح راولپنڈی کے ٹیلنٹ کے لیے نئے دروازے کھولے گا۔








