سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا اجلاس سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق شیری رحمان نے خبردار کیا کہ پاکستان موسمیاتی خطرات کے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے
سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا اجلاس سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق شیری رحمان نے خبردار کیا کہ پاکستان موسمیاتی خطرات کے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جس میں شدید ہوتی ہیٹ ویوز، گلیشیئرز کے پگھلائو میں تیزی، بے ترتیب بارشیں، بڑھتا ہوا آبی عدم تحفظ اور شہری ماحولیاتی حالات کی مسلسل خرابی شامل ہیں۔ صورتحال کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ہدایت کی کہ مون سون سے متعلق تیاریوں کو کمیٹی کی فوری ترجیح بنایا جائے اور موسمیاتی بحران کی شدت سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا جائے۔
سینیٹر شیری رحمان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے لیے پی ایس ڈی پی میں مختص رقم کم ہو کر 2.478 بلین روپے رہ گئی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں بھی یہ رقم 3.5 بلین روپے سے کم ہو کر 2.7 بلین روپے کر دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی خطرات کم نہیں بلکہ بڑھ رہے ہیں، اس کے باوجود فنڈز میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے جبکہ عملدرآمد کے مسائل بھی برقرار ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے کلائمیٹ اتھارٹی کے قیام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس اتھارٹی کا کردار کیا ہے اور یہ ایسا کون سا کام انجام دے رہی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اور سرکاری ادارہ ہے جس کا کوئی واضح مقصد نہیں اور جو قومی خزانے پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025 میں ایس او ایز کے نقصانات 832.848 بلین روپے تک پہنچ گئے جبکہ مجموعی نقصانات 6.563 ٹریلین روپے ہو چکے ہیں۔
اس کے باوجود موجودہ بجٹ میں ایس او ایز کے لیے مزید 451 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی نظم و نسق کے لیے مزید بیوروکریٹک ڈھانچوں کے بجائے بہتر ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ مون سون سے متعلق ایجنڈے پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ موسمیاتی تیاریوں میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں اور کمیٹی کو فوری طور پر آنے والے مہینوں میں پاکستان کو درپیش ابھرتے ہوئے خطرات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ کمیٹی کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے مون سون کی پیش گوئیوں اور تیاریوں جبکہ سی ڈی اے کی جانب سے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ این ڈی ایم اے کی بریفنگ کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے انعام حیدر ملک نے کمیٹی کو بتایا کہ 2026-27 کا عرصہ ایل نینو کے اثرات کے تحت رہنے کا امکان ہے جس کے باعث خطے میں شدید موسمی واقعات اور موسمیاتی تغیرات میں اضافہ متوقع ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ جون 2026ء میں عالمی درجہ حرارت تاریخی اوسط سے تقریباً 1.47 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا جبکہ پاکستان میں درجہ حرارت اوسط سطح سے تقریباً 1.56 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے وہ مراحل جن کے دہائی کے اختتام تک پہنچنے کی توقع تھی، اب مقررہ وقت سے کئی سال پہلے ہی سامنے آ رہے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے این ڈی ایم اے سے سوال کیا کہ کیا بدلتے موسمی حالات میں پاکستان کو کم بارشوں کی توقع رکھنی چاہیے۔ اس پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ بارشوں کے انداز میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے، جہاں کئی علاقوں میں مجموعی بارش کم ہو رہی ہے جبکہ بعض علاقوں میں شدید اور محدود دورانیے کی بارشوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے حصے طویل خشک سالی کا سامنا کر رہے ہیں جس سے آبی وسائل اور زرعی پیداوار پر دبائو بڑھ رہا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں بارشوں کا انداز مسلسل غیر متوقع ہوتا جا رہا ہے۔ این ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کی شرح میں تقریباً 3.5 فیصد جبکہ بخارات بننے کی شرح میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شمالی پاکستان میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات، اچانک سیلابوں اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے اثرات میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات کی تعداد تقریباً 33 سے بڑھ کر 50 تک پہنچنے کا امکان ہے۔ گلیشیئرز کے خاتمے کے طویل المدتی اثرات کے حوالے سے سینیٹر شیری رحمان نے سوال اٹھایا کہ اگر گلیشیئرز اسی رفتار سے ختم ہوتے رہے تو مستقبل میں آبی ذخائر اور ڈیموں کے لیے پانی کہاں سے آئے گا۔ جواب میں این ڈی ایم اے نے بڑے پیمانے پر بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، زیرزمین پانی کی بحالی اور ملک بھر میں مون سون بیسنز کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ سینیٹر شیری رحمان نے ان موافقتی اقدامات کی مالی لاگت کے حوالے سے استفسار کیا اور جاری منصوبہ بندی سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ مشاورتی عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور قومی خشک سالی ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کو فوری طور پر جائزے کے لیے کمیٹی کے ساتھ شیئر کیا جائے۔ سینیٹر شیری رحمان نے علاقائی آبی تحفظ سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجز پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بھارت میں ایسے نئے انفراسٹرکچر سے متعلق رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے جو پانی کے بہائو کو موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، انہوں نے آبی نظم و نسق، سرحد پار آبی بہائو اور معلومات کی شفافیت کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ آبی بہائو سے متعلق معلومات کا تبادلہ نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور آبی تحفظ تیزی سے ہمارے دور کے اہم ترین چیلنجز میں شامل ہو رہا ہے۔ اس مسئلے کی تزویراتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے ہدایت کی کہ جولائی میں آبی وسائل، دریائوں کے بہائو، ذخیرہ آب سے متعلق مسائل اور علاقائی آبی پیش رفت پر خصوصی بریفنگ منعقد کی جائے۔ کمیٹی کو مزید آگاہ کیا گیا کہ غیر معمولی موسمی حالات، خشک سالی اور شدید گرمی متاثرہ علاقوں میں زرعی پیداوار میں 11 سے 12 فیصد تک کمی کا سبب بن سکتے ہیں جبکہ اس کے ساتھ صحت عامہ کے ہنگامی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ شہری ماحولیاتی نظم و نسق کے حوالے سے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کا ماحولیاتی بحران صرف موسمیاتی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ کچرے کے انتظام اور آبی آلودگی میں بڑھتی ہوئی ناکامیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سی ڈی اے چیئرمین کی جانب سے دی گئی بریفنگ کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کے سیوریج ٹریٹمنٹ منصوبے 2023ء سے مسلسل تاخیر کا شکار ہیں۔ اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے سوال کیا کہ مسئلے کی سنگینی کے باوجود اہم سیوریج انفراسٹرکچر منصوبے کیوں تعطل کا شکار رہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تین سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ٹینڈرنگ عمل کے 30 جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے جبکہ چار جوائنٹ وینچرز اس وقت تکنیکی جانچ کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
حکام نے تسلیم کیا کہ منصوبوں کے لیے مختص فنڈز ناکافی ہیں اور لاگت میں نظرثانی ناگزیر ہو چکی ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سیوریج ٹریٹمنٹ انفراسٹرکچر میں تاخیر کے براہ راست اثرات عوامی صحت اور ماحولیاتی پائیداری پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بغیر ٹریٹمنٹ کے سیوریج اور زہریلے مادے دریائوں، جھیلوں، ڈیموں اور آبی نظام میں شامل کیے جا رہے ہیں اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں روزانہ تقریباً 990 ٹن ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے جبکہ صرف تقریباً 500 ٹن کچرا باقاعدگی سے جمع کیا جاتا ہے جس کے باعث خصوصاً دیہی علاقوں میں نمایاں خلا موجود ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے اسلام آباد کے سبزہ زاروں اور شہری ماحولیاتی منصوبہ بندی پر جامع بریفنگ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے شہروں میں ماحولیاتی بحالی اور تحفظ کے لیے نمایاں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سال تقریباً 11 ہزار ہیکٹر جنگلات سے محروم ہو رہا ہے جبکہ ملک میں جنگلات کا مجموعی رقبہ صرف 4.7 فیصد ہے۔
آبی گزرگاہوں اور نالوں کے اطراف تجاوزات کے خاتمے کے معاملے پر سینیٹر شیری رحمان نے باری امام کے علاقے سمیت کمزور طبقات کی بے دخلی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی نظم و نسق سماجی انصاف کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ غریب آبادیوں کو اکثر بے دخل کر دیا جاتا ہے جبکہ بااثر مفادات محفوظ رہتے ہیں، جن لوگوں کو بے گھر کیا جاتا ہے ان کے لیے متبادل رہائش کا انتظام ہونا چاہیے کیونکہ رہائش اور بحالی ریاست کی ذمہ داری ہے اور کوئی شخص اپنی مرضی سے اپنا گھر نہیں چھوڑتا۔ عوام دوست شہری منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ کم آمدنی والے طبقات اور معاشرتی طور پر محروم افراد کی رہائشی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک طویل المدتی فریم ورک تیار کیا جائے۔








