سرحد پار آبی وسائل کو کبھی بھی دبائو ڈالنے یا طاقت کے استعمال کے آلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا برسلز میں کانفرنس سے خطاب

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سرحد پار آبی وسائل کو کبھی بھی دبائو ڈالنے یا طاقت کے استعمال کے آلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، پانی ایک مشترکہ وسیلہ، مشترکہ ذمہ داری اور انسانی وقار و پائیدار ترقی کی بنیادی ضرورت ہے،

برسلز۔18جون (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سرحد پار آبی وسائل کو کبھی بھی دبائو ڈالنے یا طاقت کے استعمال کے آلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، پانی ایک مشترکہ وسیلہ، مشترکہ ذمہ داری اور انسانی وقار و پائیدار ترقی کی بنیادی ضرورت ہے، پاکستان تمام معاملات کو مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے برسلز میں ’’سرحد پار آبی وسائل: ایک ہتھیار بنائے جانے والا عالمی اثاثہ‘‘ کے موضوع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ مشترکہ پانی قوموں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیے اور آبی حکمرانی کا بنیادی اصول طاقت نہیں بلکہ تعاون ہونا چاہیے۔ یہ خوش آئند ہے کہ آج کی تقریب نے یورپ کی ان اہم آوازوں کو ایک جگہ جمع کیا ہے جو موسمیاتی تبدیلی، آبی وسائل کے انتظام اور ان اہم معاملات سے جڑے سیاسی پہلوئوں پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سی ایس پی ایس اور برسلز میں پاکستانی سفارتخانے کو اس اہم کانفرنس کے مشترکہ انعقاد پر سراہتا ہوں۔ موجودہ حالات میں یہ کانفرنس بروقت ہے اور بین الاقوامی قانون، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی امن و سلامتی سے متعلق اہم امور کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار کا عنوان ’’سرحد پار آبی وسائل: ایک ہتھیار بنائے جانے والا عالمی اثاثہ‘‘ ظاہر کرتا ہے کہ معاہدوں، سمجھوتوں اور باہمی اتفاق رائے کے ذریعے سرحد پار پانیوں کا انتظام عالمی اہمیت رکھتا ہے۔ مشترکہ وسائل کا انتظام طے شدہ طریقہ کار کے تحت تعاون سے ہونا چاہیے، بصورت دیگر مختلف مفادات ان وسائل کو تنازعات اور ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ذریعہ بنا سکتے ہیں،

جیسا کہ آج کے دور میں زیادہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا کہ آبی وسائل پر شدید قومی مقابلے نے یہ خدشات پیدا کیے ہیں کہ پانی کے مسائل پرتشدد تنازعات کا سبب بن سکتے ہیں، لیکن ہمیں درپیش آبی بحران اکثر پانی کی کمی کے بجائے انتظام اور حکمرانی کے بحران ہوتے ہیں۔ مشترکہ پانی کے وسائل امن اور علاقائی یکجہتی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جنگ کا سبب نہیں۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ یہ حقیقت کہ ہمیں آج کے دور میں بھی اس موضوع پر بحث کرنا پڑ رہی ہے جو باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاہدوں، سمجھوتوں اور کثیرالجہتی نظام کے احترام کے ذریعے برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ ممالک اختلافات کو محاذ آرائی کے بجائے تعاون سے حل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے منشور میں درج اقدار کی حمایت کی ہے اور اس کے اصولوں اور متعلقہ قراردادوں پر کاربند رہا ہے۔

اسی جذبے کے تحت پاکستان نے 1960ء میں بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے جس کے ذریعے دریائے سندھ کے نظام کے چھ دریائوں کے استعمال کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اپنے دائرہ کار کے اندر تنازعات کے پرامن حل کا طریقہ فراہم کرتا ہے۔ اس معاہدے کی مضبوطی کا ثبوت یہ ہے کہ یہ تین بڑی جنگوں اور کئی دیگر چیلنجز کے باوجود دہائیوں تک قائم رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ پاکستان نے ماضی میں معاہدے کے تحت بھارت کے بعض اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ معاہدے کی شقوں کے مطابق ہم نے بین الاقوامی طریقہ کار کے ذریعے حل کی کوشش کی اور فیصلوں کا احترام کیا، چاہے وہ ہماری توقعات کے مطابق نہ بھی ہوں۔ کسی بھی مرحلے پر دونوں میں سے کسی فریق نے یکطرفہ طور پر معاہدہ ختم کرنے کو قابل عمل راستہ نہیں سمجھا۔ ذمہ دار ریاستیں قائم شدہ قانونی نظام کو ترک کرنے کے بجائے انہی کے اندر رہ کر کام کرتی ہیں تاہم آج ہم خود کو بالکل اسی نوعیت کے ایک چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہمارے خدشات صرف بھارتی بیانات پر مبنی نہیں ہیں۔ بھارت نے اپنے سخت بیانات کے بعد غیر قانونی اقدامات بھی کیے ہیں جن میں ساولکوٹ، کرتھائی، کوار وغیرہ جیسے ذخائر بنانے کے منصوبے، بگلیہار اور سلال جیسے موجودہ منصوبوں کی توسیع اور سب سے تشویشناک طور پر دریائے سندھ، چناب اور راوی کے پانی کے رخ کو موڑنے کے منصوبے شامل ہیں۔ مجموعی طور پر کم از کم 17 ایسے منصوبے ہیں جو پورے دریائی نظام کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکتے ہیں اور بھارت کو مطلوبہ ’’آبی بالادستی‘‘ کے ذرائع فراہم کر سکتے ہیں۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ دریا صرف پانی کے راستے نہیں ہوتے بلکہ زندگی کی شہ رگ ہوتے ہیں۔ ان کی تاریخی اہمیت گہری ہے اور یہ انسانی بقا اور روزمرہ ضروریات کا بنیادی ذریعہ ہیں۔

دنیا کی قدیم ترین مسلسل آباد تہذیبوں میں سے ایک، وادی سندھ کی تہذیب جس نے بعد ازاں گندھارا تہذیب کو پروان چڑھایا اور کئی ثقافتی و تاریخی ترقیات کو جنم دیا، آج خطرے سے دوچار ہے۔ ہمارے مشرقی ہمسائے کی جانب سے 24 کروڑ لوگوں کو ان کے جائز آبی حق سے محروم کرنے کی مبینہ پالیسی ایک بڑے انسانی بحران کا پیش خیمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو کبھی بھی دبائو ڈالنے یا طاقت کے استعمال کے آلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ایک مشترکہ وسیلہ، مشترکہ ذمہ داری اور انسانی وقار و پائیدار ترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس لیے سرحد پار پانیوں کے مستقبل کا انتظام تعاون اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔انہوں نے کہ یہ مسئلہ صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ معاہدوں کا احترام بین الاقوامی نظام کی بنیاد ہے۔

یورپ میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں سرحد پار آبی معاہدوں پر عمل درآمد نے ریاستوں کو پانی کے وسائل کو تعاون کے ذریعے بانٹنے اور علاقائی استحکام و خوشحالی کو فروغ دینے میں مدد دی۔ اس لیے معاہدوں کی پاسداری صرف علاقائی نہیں بلکہ ایک عالمی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام معاملات کو مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ہمارا موقف تصادم پر نہیں بلکہ اس یقین پر مبنی ہے کہ پائیدار حل صرف تعاون اور باہمی طے شدہ ذمہ داریوں کے احترام سے ہی ممکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ چیلنج ایسے وقت میں درپیش ہے جب وہ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے غیر متناسب طور پر متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی گرین ہائوس گیس اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہونے کے باوجود پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

یہ وقت آبی معاملات پر عالمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آج کی گفتگو سرحد پار آبی وسائل کے انتظام میں تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرے گی جس میں سندھ طاس معاہدے کو ایک مثال کے طور پر دیکھا جائے گا جبکہ دیگر خطوں اور دریائی نظاموں سے بھی قابل قدر تجربات حاصل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا آئیے آج اس عزم کا اعادہ کریں کہ مشترکہ پانی قوموں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے اور سرحد پار آبی حکمرانی کا بنیادی اصول طاقت نہیں بلکہ تعاون ہونا چاہیے۔

مزید خبریں