خیبرپختونخوا میں پاکستان کا پہلا صوبائی یونیورسٹی رینکنگ سسٹم متعارف، جامعات کی درجہ بندی کا باضابطہ اعلان

خیبرپختونخوا حکومت نے پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے صوبائی سطح کے یونیورسٹی رینکنگ سسٹم کے تحت سرکاری و نجی جامعات کی درجہ بندی کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ اس امر کا اعلان وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی نے پشاور میں منعقدہ خصوصی پریس کانفرنس کے دوران کیا

پشاور۔ 18 جون (اے پی پی):خیبرپختونخوا حکومت نے پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے صوبائی سطح کے یونیورسٹی رینکنگ سسٹم کے تحت سرکاری و نجی جامعات کی درجہ بندی کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ اس امر کا اعلان وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی نے پشاور میں منعقدہ خصوصی پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات شفیع جان، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے جامعات کی کارکردگی جانچنے اور معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اور شفاف رینکنگ نظام متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کی تیاری کے دوران عالمی اور قومی سطح پر رائج یونیورسٹی رینکنگ ماڈلز سے قابلِ عمل اشاریے (Indicators) اخذ کیے گئے۔ وزیر اعلیٰ تعلیم کے مطابق جامعات کی درجہ بندی 12 بنیادی انڈیکیٹرز اور 66 سب انڈیکیٹرز کی بنیاد پر کی گئی، جن میں تدریس، تحقیق، گورننس، طلبہ سہولیات، اختراع، مالیاتی نظم و نسق اور کمیونٹی سروس سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رینکنگ سسٹم کے تحت جامعات کی درجہ بندی چار مختلف کیٹیگریز میں کی گئی ہے۔ مجموعی (Overall) رینکنگ میں صوبے کی 45 جامعات میں سے انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز (IMSciences) پشاور نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ جامعہ ہزارہ دوسرے اور پاک آسٹریا فاخا شولے انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ہری پور تیسرے نمبر پر رہے۔ جنرل یونیورسٹیز کیٹیگری میں بھی آئی ایم سائنسز نے پہلی، جامعہ ہزارہ نے دوسری جبکہ جامعہ ملاکنڈ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ٹیکنیکل اور اسپیشلائزڈ یونیورسٹیز کیٹیگری میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور پہلے نمبر پر رہی، جبکہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے دوسری اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے بتایا کہ 2011 کے بعد قائم ہونے والی جامعات کے لیے علیحدہ ایمرجنگ یونیورسٹیز کیٹیگری متعارف کرائی گئی، جس میں پاک آسٹریا فاخا شولے ہری پور نے پہلی، شہداء آرمی پبلک سکول یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ نے دوسری جبکہ جامعہ ہری پور نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح نجی جامعات کی رینکنگ میں غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی پہلے، سیکاس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ایمرجنگ سائنسز دوسرے جبکہ قرطبہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیرہ اسماعیل خان تیسرے نمبر پر رہی۔ مینا خان افریدی نے اعلان کیا کہ آئندہ جامعات کو ان کی کارکردگی اور رینکنگ کی بنیاد پر پرفارمنس گرانٹس فراہم کی جائیں گی تاکہ صحت مند مسابقت کو فروغ ملے اور اعلیٰ تعلیم کے معیار میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں یونیورسٹی رینکنگ کا یہ عمل ہر سال باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا تاکہ جامعات کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت گزشتہ 13 برسوں کے دوران 14 نئی جامعات قائم کر چکی ہے اور آئندہ بجٹ میں طلبہ کے لیے مزید سہولیات، وظائف اور مراعات متعارف کرائی جائیں گی۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، معیار اور عالمی مسابقت کو فروغ دینے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ خیبرپختونخوا کی جامعات قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکیں۔

مزید خبریں