پاکستان ہنر مند کارکن ایکسپورٹ کر کے ترسیلات زر میں 8سے 12ارب ڈالر تک اضافہ کر سکتا ہے۔، علی عمران آصف

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر ایگزیکٹو کمیٹی ممبر علی عمران آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی نوجوان آبادی کو بوجھ کے بجائے معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کے لیے فوری طور پر ہنرمندی پر مبنی قومی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی

لاہور۔18جون (اے پی پی):لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر ایگزیکٹو کمیٹی ممبر علی عمران آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی نوجوان آبادی کو بوجھ کے بجائے معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کے لیے فوری طور پر ہنرمندی پر مبنی قومی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی،پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اگر انہیں عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے تو پاکستان نہ صرف بیروزگاری میں نمایاں کمی لا سکتا ہے بلکہ اربوں ڈالر کی اضافی ترسیلات زر بھی حاصل کر سکتا ہے۔ جمعرات کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سات لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک گئے تاہم ان میں اکثریت غیر ہنر مند کارکنوں کی تھی جبکہ ہنر مند افراد کا تناسب نسبتاًکم رہا۔ یہی وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کے لیے ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ، صحت، تعمیرات، الیکٹریکل اور دیگر تکنیکی شعبوں میں تربیت دی جائے تو ان کی عالمی سطح پر مانگ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین سمیت خلیجی ممالک میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کے باعث ہنر مند افرادی قوت کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی طرح جرمنی، برطانیہ، اٹلی، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں عمر رسیدہ آبادی اور لیبر کی کمی کے باعث تربیت یافتہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔اگر پاکستان آئندہ چند برسوں میں بڑی تعداد میں ہنر مند کارکن بیرون ملک بھیجنے میں کامیاب ہو جائے تو سالانہ ترسیلات زر میں 8سے 12ارب ڈالر تک اضافی اضافہ ممکن ہے جس سے مجموعی ترسیلات زر 50ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔

مزید خبریں