اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے جمعرات کے روز رکن صوبائی اسمبلی عسکر پرویز اور مسیحی برادری کے نمائندہ وفد نےملاقات کی۔
اقلیتی برادریوں کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں، اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی

مزید خبریں
پشاور۔ 18 جون (اے پی پی):اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے جمعرات کے روز رکن صوبائی اسمبلی عسکر پرویز اور مسیحی برادری کے نمائندہ وفد نےملاقات کی۔محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق ملاقات میں مسیحی برادری کے دیرینہ مطالبے، مجوزہ کرسچن میرج ایکٹ کے مسودے اور اس سے متعلق قانونی و انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے اسپیکر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت مسیحی برادری کے عائلی معاملات بڑی حد تک 1872ء کے نوآبادیاتی دور کے قانون کے تحت چلائے جا رہے ہیں، جس میں وقت کے ساتھ سامنے آنے والے متعدد سماجی اور قانونی چیلنجز کا مؤثر احاطہ موجود نہیں۔ وفد نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ حالات اور جدید قانونی تقاضوں کے مطابق ایک جامع اور مؤثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔رکن صوبائی اسمبلی عسکر پرویز نے بتایا کہ مجوزہ قانون کی تیاری کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز، قانونی ماہرین اور مسیحی برادری کے نمائندوں سے مشاورت کی گئی ہے تاکہ ایسا قانون مرتب کیا جا سکے جو برادری کو درپیش عملی مسائل کا دیرپا حل فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ بل میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام، شادیوں کی رجسٹریشن، بین المذاہب شادیوں سے متعلق معاملات، ازدواجی تنازعات، علیحدگی، نکاح کی تنسیخ اور دیگر متعلقہ امور کو جدید قانونی تقاضوں کے مطابق شامل کیا گیا ہے۔اس موقع پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی تمام شہریوں کے آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے اور صوبے کی اقلیتی برادریوں کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو مساوی حقوق اور باوقار زندگی کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے قانون سازی کے عمل کو ترجیح دی جائے گی۔








