کپاس کے کاشتکاروں کے لیے30 جون تک کیلئے سفارشات جاری

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ( سی سی آر آئی) ملتان نے کپاس کے کاشتکاروں کے لیے30 جون تک کیلئے سفارشات جاری کر دیں۔جمعرات کے روز سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آٹھواں اجلاس ڈائریکٹر سی سی آر آئی صباحت حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا

ملتان۔ 18 جون (اے پی پی):سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ( سی سی آر آئی) ملتان نے کپاس کے کاشتکاروں کے لیے30 جون تک کیلئے سفارشات جاری کر دیں۔جمعرات کے روز سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آٹھواں اجلاس ڈائریکٹر سی سی آر آئی صباحت حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔جس میں اگیتی وموسمی کپاس کی کامیاب نگہداشت کے حوالے سے کاشتکاروں کے لیے آئندہ پندرہ روز کے لیے جامع سفارشات پیش کی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ کاشتکار موجودہ گرم اور خشک موسم میں کپاس کی فصل کو زیادہ نائٹرجنی کھادیں نہ دیں ،گوڈی اور ہل کا استعمال صبح یا شام کے اوقات میں کریں، گرم موسم کے باعث کاشتکار فصل میں پوٹاشیم ،بورون اور زنک کا سپرے کریں اور ہر 15 دن بعد دوبارہ سپرے کریں۔ سفارشات میں بتایا گیا ہے کہ کپا س کے بعض کاشتہ علاقہ جات میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت45 ڈگری سے اوپر جا رہا ہے جبکہ رات کا ٹمپریچر بھی 28 ڈگری سے اوپر ہے ،اس صورت میں پھل پھول گرنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں،کاشتکاروں کو چاہئِے کہ وہ کھیت میں بھر کت پانی نہ لگائیں ، فصل کو ہلکا پانی دیں ،آبپاشی کا دورانیہ کم کریں اورموسم کو مدنظر رکھ کر آبپاشی کریں ۔

سفارشات میں مزید بتایا گیا ہے کہ فصل کوگرمی کی شدت سے بچانےاور ٹینڈوں ،ڈوڈیوں میں اضافے کے لئے کاشتکار 200 گرام پوٹاشیم سلفیٹ، 250 گرام میگنیشیم سلفیٹ،150 گرام زنک سلفیٹ ،100 گرام بوریکس اور ایک کلوگرام یوریا علیحدہ علیحدہ محلو ل بنا لیں اور پھر اس محلول کو 125 لیٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ کے حساب سے صبح وشام سپرے کریں۔کپا س کی فصل کو سفید مکھی سے بچاو کے لئے پیلے چپکنے والے10 عدد پھندے فی ایکڑ کے حساب سے لگائیں اور 15-20 بعد پیلے ڈبوں کی گوند دوبارہ لگائیں۔سفارشات میں بتایا گیا ہے کہ آجکل آندھیوں کی صورت میں پیلے چپکنے والے گرد آلود ڈبوں کی باقاعدہ صفائی کا خیال رکھیں اور ڈبوں کو صاف کرکے گوند لگائیں،اگر سفید مکھی کا حملہ معاشی حد کو عبور کر جائے تو کاشتکار سفید مکھی کے کنٹرول کے لئے سپائروٹیٹرامیٹ125ملی لیٹر+ بائیوپاور250 ملی لیٹر یا سینٹرانیلی پرول+ ڈائیوفینتھرون مکسچر 300 ملی لیٹر یا فلونیکامڈ 80 گرام یا پائری پروکسیفن 400-500 ملی لیٹربحساب 100 لیٹرپانی میں ملا کر فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں جبکہ فصل کو گلابی سنڈی سے بچاو کے لئے جنسی پھندوں کا استعمال کیا جائے۔کاشتکاروں کو مینجمنٹ کے لئے 10 جنسی پھندے جبکہ مانیٹرنگ کے لئے ایک جنسی پھندہ فی پانچ ایکڑ میں لگانے اور15 دن بعد جنسی پھندوں کے کیپسول کو تبدیل کرنے کابتایا گیا ہے

کیونکہ کپاس کے کاشتہ علاقہ جات میں کیڑے مکوڑوں کا حملہ معاشی حدوں کو چھو رہا ہے۔سفارشات میں مزید بتایا گیا ہے کہ جیسیڈ اگر معاشی نقصان کی حد کو عبور کرے تو کاشتکار فلونیکا مڈ 60 گرام یا ڈائی نوٹیفرون100 گرام بحساب 100 لیٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کریں۔ تھرپس کی معاشی حد عبور ہونے کی صورت میں سپنٹورام 60 ملی لٹر یا کلورفینو پائر125 ملی لیٹر یا تھائیو متھاکسن + ایبامیکٹن 400 ملی لیٹر،بحساب 100 لیٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اجلاس میں پیش کی گئی سفارشات میں بتایا گیا ہے کہ ایسے کاشتکار جنہوں نے بیج کے لئے کپاس لگائی ہے تو اس میں روگنگ کا عمل شروع کردیں اور اگر کپاس میں چنائی کا عمل شروع ہے تو پھٹی کو خشک کریں ،اس کی جننگ جلد از جلد مکمل کریں اور جرمینیشن چیک کرنے کے بعد اسے محفوظ کرلیں۔ٹرپل جین کپاس کی اقسام والی فصل میں جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے ایک لیٹر گلائفوسیٹ بحساب 100لیٹر پانی میں ملا کر سپرے احتیاط سے کریں ،پودوں پر سپرے نہ کیا جائے ،اس کے لئے حفاظتی شیلڈ لگانا بہتر طریقہ ہے۔کاشتکار جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لئے مربوط طریقہ انسداد اختیار کریں،اگیتی کپاس میں لانگ ٹائن ( ہل) کے ذریعے جڑی بوٹیوں کا خاتمہ کیا جائے اورکاشتکار فصل کے ابتدائی 50 دنوں تک روٹری ہو( ہل) کا استعمال کریں۔

اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ساجد محمود، ڈاکٹر محمد اکبر، ڈاکٹر احمد، ڈاکٹر رابعہ سعید اورڈاکٹر آسیہ پروین انے شرکت کی،فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ نواں اجلاس یکم جولائی 2026کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

 

مزید خبریں