نگلہ دیش کی معروف یونیورسٹیوں کے ایک اعلیٰ سطحی تعلیمی وفد نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی ( کے ایم یو ) پشاورکا دورہ کیا
بنگلہ دیش کی معروف یونیورسٹیوں کے ایک اعلیٰ سطحی تعلیمی وفد کا خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاورکا دورہ

مزید خبریں
پشاور۔ 19 جون (اے پی پی):بنگلہ دیش کی معروف یونیورسٹیوں کے ایک اعلیٰ سطحی تعلیمی وفد نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی ( کے ایم یو ) پشاور کا دورہ کیا جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم، تحقیق، اختراعات، اور استعداد کارکی تعمیرمیں اسٹریٹجک تعاون کے مواقع تلاش کرنا تھا۔ وفد میں یونیورسٹی آف ڈھاکہ، یونیورسٹی آف راجشاہی، چٹاگانگ یونیورسٹی، شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، جہانگیرنگریونیورسٹی، نارتھ ساؤتھ یونیورسٹی، بریک یونیورسٹی، ساؤتھ ایسٹ یونیورسٹی، اورایشین یونیورسٹی آف بنگلہ دیش سمیت معروف اداروں کے ممتاز پروفیسرز، ڈینز، وائس چانسلرز، ڈائریکٹرز اورتعلیم ماہرین شامل تھے۔ اس موقع پرکے ایم یو کی سینئر ڈین پروفیسر ڈاکٹر روبینہ نازلی نے کی اور اس میں یونیورسٹی بھر سے ڈینز، ڈائریکٹرز، انسٹی ٹیوٹ کے سربراہان اورسینئرفیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ سیشن کے دوران، ڈاکٹر زوہیب خان، ڈائریکٹر ORIC نے KMU کی تعلیمی اورتحقیقی کامیابیوں کا ایک جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا اوراسلام آباد میں 20 سے زائد کیمپسز اورتعلیمی مراکز کے ذریعے یونیورسٹی کی تیز رفتار توسیع پر روشنی ڈالی جس سے صحت کی معیاری تعلیم کو پسماندہ طبقات تک پہنچانا ہے۔ انہوں نےبتایا کہ کے ایم یو نے اہم قومی اوربین الاقوامی تحقیقی گرانٹس حاصل کیے ہیں جس سے پاکستان کی معروف تحقیقی جامعات میں اپنی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ ڈاکٹرخان نے KMU ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹرکو ایک تاریخی اقدام قرار دیا جس نے KMU کو صوبے کی پہلی پبلک سیکٹر یونیورسٹی بنا دیا جس نے اپنا خودمختار تدریسی اورتحقیقی ہسپتال قائم کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ KMU کے تقریباً 18 فیصد طلباء وظائف اورمالی امداد کے پروگراموں سے مستفید ہوتے ہیں۔ وفد کوبتایا گیا کہ ای ایگزامینیشن اورای فائل سسٹم متعارف کرانے سے کے ایم یو صوبے کی پہلی مکمل طور پر پیپرلیس پبلک سیکٹر یونیورسٹی بننے میں کامیاب ہو گئی ہے، آنے والے ماہرین تعلیم نے کے ایم یو کی شاندار ترقی، تعلیمی فضیلت، تحقیقی شراکت اوراختراعی اقدامات کو سراہا ، انہوں نے فیکلٹی اور طلباء کے تبادلے کے پروگراموں، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اکیڈمک نیٹ ورکنگ، اور مشترکہ جدت طرازی کے اقدامات کے ذریعے شراکت داری کو فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے بات چیت کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زوردیا اورٹھوس تعاون پرمبنی اقدامات پراتفاق کیا۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ پروفیسرڈاکٹر جلیل خان بنگلہ دیشی اداروں کے ساتھ تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے KMU کے فوکل پرسن کے طور پرکام کریں گے۔ وفد نے پاکستان اوربنگلہ دیش کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اورمشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے اورعلاقائی ترقی کو فروغ دینے کے لیے علمی سفارت کاری، باہمی تحقیق اورعوام سے عوام کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا ۔








