عدلیہ کی ساکھ عوامی اعتماد سے وابستہ ہے،بدنام شہرت رکھنے والا جج عدالتی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ماتحت عدلیہ کے ایک جوڈیشل افسر کی برطرفی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگرچہ افسر کے خلاف رشوت لینے یا غیر قانونی فائدہ حاصل کرنے کا الزام ثابت نہیں ہوا

اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ماتحت عدلیہ کے ایک جوڈیشل افسر کی برطرفی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگرچہ افسر کے خلاف رشوت لینے یا غیر قانونی فائدہ حاصل کرنے کا الزام ثابت نہیں ہوا، تاہم اس کی خراب شہرت اور مشکوک ساکھ اسے عدالتی منصب پر برقرار رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پنجاب سب آرڈینیٹ جوڈیشری سروس ٹربیونل کے 17 جنوری 2025 کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔عدالت کے مطابق متعلقہ جوڈیشل افسر محمد افضل زاہد جو ضلع وہاڑی کے علاقے میلسی میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تعینات تھے کے خلاف بدعنوانی، بدانتظامی اور خراب شہرت کے الزامات پر محکمانہ کارروائی کی گئی تھی۔ انکوائری افسر نے شواہد اور گواہوں کی روشنی میں افسر کے طرز عمل کو عدالتی منصب کے وقار اور دیانت داری کے منافی قرار دیتے ہوئے الزامات ثابت قرار دئیے تھےجس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کی مجاز اتھارٹی نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔بعد ازاں پنجاب سب آرڈینیٹ جوڈیشری سروس ٹربیونل نے قرار دیا کہ رشوت لینے کا الزام ثابت نہیں ہوا تاہم خراب شہرت کا الزام برقرار رہا۔ ٹربیونل نے برطرفی کی سزا کو لازمی ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایک جج کی حیثیت عام سرکاری ملازم سے مختلف ہوتی ہے اور عدالتی منصب کے لیے صرف بدعنوانی سے پاک ہونا کافی نہیں بلکہ بے داغ کردار اور عوامی اعتماد بھی لازمی ہے۔ عدالت نے کہا کہ عدلیہ کی طاقت جبر سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور قانونی جواز سے حاصل ہوتی ہے، اس لیے اگر کسی جج کی شہرت عوام کی نظر میں مشکوک ہو جائے تو اس کی موجودگی خود عدالتی نظام کے لیے نقصان دہ بن جاتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ جج کے لیے معیار صرف "بے گناہی” نہیں بلکہ "ہر قسم کے شبہے سے بالاتر” ہونا ہے۔ عدالت نے اسلامی تعلیمات، قرآن و سنت، فقہی آراء اور عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قاضی یا جج کے منصب کا تقاضا ہے کہ اس کی دیانت اور کردار پر کوئی سوال نہ اٹھے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ لازمی ریٹائرمنٹ اور برطرفی میں واضح فرق ہے۔ لازمی ریٹائرمنٹ بعض انتظامی وجوہات کی بنا پر دی جا سکتی ہے، تاہم ایک ایسے جج کو جس کی شہرت خراب ہو چکی ہو، مراعات کے ساتھ ریٹائرڈ کرنا یہ تاثر دے گا کہ عدالتی دیانت داری قابلِ سمجھوتہ ہے، جو عدالتی نظام کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے دائر درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور جوڈیشل افسر کی برطرفی کی اصل سزا بحال کر دی۔سپریم کورٹ نے جوڈیشل افسر کی جانب سے سروس میں بحالی اور الزامات سے مکمل بریت کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں جبکہ سالانہ کارکردگی رپورٹ (PER) میں درج منفی ریمارکس ختم کرنے کی درخواست بھی خارج کر دی۔

مزید خبریں