سپریم کورٹ نے بری ہونے والے سرکاری ملازم کے بیک بینیفٹس کیس میں سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

سپریم کورٹ نے بری ہونے والے سرکاری ملازم کے بیک بینیفٹس کیس میں سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد۔20جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم کو صرف فوجداری مقدمے میں سزا کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کیا گیا ہو اور بعد ازاں وہ مقدمے میں بری ہو کر بحال ہو جائے تو اسے بنیادی قواعد (Fundamental Rule 54) کے تحت واجب الادا تنخواہوں اور دیگر مالی مراعات کی ادائیگی کے معاملے پر قانون کے مطابق غور کیا جانا چاہیے۔

رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے میاں عبدالسعید کی اپیل منظور کرتے ہوئے خیبر پختونخوا سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق اپیل کنندہ بطور سیکنڈری سکول ٹیچر (SST) خدمات انجام دے رہا تھا۔ اسے ایک قتل کے مقدمے میں نامزد کیے جانے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بونیر نے اسے سزا سنائی جس کی بنیاد پر 2015 میں ملازمت سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم پشاور ہائیکورٹ کے مینگورہ بینچ (دارالقضاء سوات) نے 2017 میں اسے بری کر دیا، جس کے بعد محکمہ نے اسے دوبارہ ملازمت پر بحال کر دیا لیکن برطرفی سے بحالی تک کا عرصہ بغیر تنخواہ رخصت شمار کیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ بنیادی قواعد کے رول 54 کے مطابق اگر کوئی سرکاری ملازم باعزت بری ہو کر بحال کیا جائے تو اصولی طور پر اسے وہ مکمل تنخواہ اور مراعات ملنی چاہئیں جن کا وہ برطرف نہ ہونے کی صورت میں حقدار ہوتا۔ عدالت نے ماضی کے متعدد عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بریت کے بعد بحالی محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ ملازم کے قانونی حقوق، حیثیت اور وقار کی مکمل بحالی کا تقاضا کرتی ہے۔عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اپیل کنندہ کو ملازمت سے ہٹانے سے قبل نہ تو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی محکمانہ انکوائری کی گئی، بلکہ تمام کارروائی صرف فوجداری مقدمے میں سزا کی بنیاد پر کی گئی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ محکمانہ کارروائی اور فوجداری مقدمہ الگ نوعیت کے معاملات ہیں اور محکمانہ کارروائی میں ملازم کو صفائی کا موقع دینا لازم ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بحالی کے حکم میں یہ وجوہات بیان نہیں کی گئیں کہ اپیل کنندہ کو رول 54 کے تحت بیک بینیفٹس سے کیوں محروم رکھا گیا اور نہ ہی خیبر پختونخوا سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے سیکشن 17 کے مطابق واجبات کا تعین کیا گیا۔

عدالت نے متعلقہ مجاز اتھارٹی، ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا، کو ہدایت کی ہے کہ اپیل کنندہ کے بیک بینیفٹس کے معاملے پر بنیادی قواعد کے رول 54 کے مطابق ازسرنو غور کرتے ہوئے دو ماہ کے اندر نیا فیصلہ جاری کیا جائے۔