مون سون میں آلودہ پانی اور غیر معیاری خوراک متعدی امراض کا سبب بن سکتی ہے، ڈی ایچ او ایبٹ آباد
مون سون میں خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ،احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں،ڈی ایچ او ایبٹ آباد

مزید خبریں
ایبٹ آباد۔ 24 جون (اے پی پی):ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ایبٹ آباد ڈاکٹر شہزاد اقبال نے کہا ہے کہ مون سون کے موسم میں آلودہ پانی اور غیر معیاری خوراک کے استعمال سے ڈائریا،ٹائیفائیڈ،ہیپاٹائٹس،بخار اور دیگر متعدی امراض کے پھیلنے کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
پختونخوا ریڈیو ایبٹ آباد کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ابلا ہوا یا صاف پانی استعمال کریں،پھل اور سبزیوں کو اچھی طرح دھو کر کھائیں اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔انہوں نے کہا کہ بیماری کی صورت میں خود علاج سے گریز کرتے ہوئے فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کیا جائے۔ڈاکٹر شہزاد اقبال نے ڈینگی سے بچاؤ کے لیے گھروں اور اردگرد پانی جمع نہ ہونے دینے جبکہ ہیپاٹائٹس سے تحفظ کے لیے غیر معیاری خوراک سے پرہیز اور محفوظ طبی آلات کے استعمال کی ہدایت کی۔انہوں نے ڈائریا کی صورت میں فوری او آر ایس کے استعمال اور پانی کی کمی سے بچاؤ پر بھی زور دیا۔انہوں نے والدین کو بچوں کی بروقت ویکسینیشن مکمل کرانے اور پیدائش کے بعد ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینے کا مشورہ دیا۔آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ احتیاطی تدابیر اپنا کر مون سون کے دوران بیماریوں کے پھیلاؤ کو موثر طریقے سے روکا جا سکتا ہے۔








