غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے مزید خاندان بے گھر، اقوام متحدہ کا انکشاف

غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے مزید خاندان بے گھر، اقوام متحدہ کا انکشاف

اقوام متحدہ ۔25جون (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی امدادی ادارے نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آتش گیر گولہ بارود کے استعمال کے باعث متعدد فلسطینی خاندان بے گھر ہوگئے ہیں، جبکہ نام نہاد "ییلو لائن” کے دائرہ کار میں توسیع نے کئی خاندانوں کی اپنے گھروں کو واپسی بھی ناممکن بنا دی ہے۔

شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) کے مطابق شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا میں رات کے وقت اسرائیلی ٹینکوں کی پیش قدمی کے بعد تقریباً 30 خاندانوں کو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق ایک کواڈ کاپٹر ڈرون سے آتش گیر مواد گرایا گیا جس کے نتیجے میں تین خیموں میں آگ بھڑک اٹھی۔اوسی ایچ اے کے مطابق اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد زیادہ تر خاندان واپس لوٹ آئے، تاہم چھ خاندان اب بھی بے گھر ہیں کیونکہ ان کے رہائشی علاقوں کے قریب پیلے رنگ کے سیمنٹ بلاکس نصب کر دیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایسے بلاکس کی تنصیب عموماً "ییلو لائن” کی توسیع کی علامت سمجھی جاتی ہے، جہاں ماضی میں مہلک طاقت کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ادارے نے بتایا کہ انسانی امدادی تنظیمیں نئے بے گھر ہونے والے خاندانوں اور اپنا سامان کھو دینے والے افراد کی مدد کر رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے 135 متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کا فوری جائزہ لینے کے بعد انہیں خیمے، کمبل، حفظانِ صحت کے سامان، پانی ذخیرہ کرنے کے کنستر اور دیگر امدادی اشیا فراہم کی گئیں۔

اوچا کے مطابق حالیہ متاثرین میں زیادہ تر وہ خاندان شامل ہیں جو فضائی یا زمینی حملوں سے متاثر ہوئے، جبکہ متعدد دیگر خاندان اسرائیلی فوج کی پیش قدمی اور "ییلو لائن” کے ساتھ رکاوٹوں کی تنصیب کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی تقریباً 21 لاکھ آبادی کی اکثریت اب بھی بے گھر ہے۔

ادارے کے مطابق پائیدار رہائش کی فراہمی کے لیے تعمیراتی سامان، ملبہ ہٹانے والی مشینری اور دھماکا خیز مواد کو صاف کرنے کے آلات کی غزہ میں ترسیل کی اجازت ناگزیر ہے۔اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے اور متاثرہ آبادی کی فوری امداد کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔