دنیا بھر میں 65 کروڑ 50 لاکھ افراد اب بھی بجلی سے محروم، اقوام متحدہ کی رپورٹ
دنیا بھر میں 65 کروڑ 50 لاکھ افراد اب بھی بجلی سے محروم، اقوام متحدہ کی رپورٹ
اقوا م متحدہ ۔25جون (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے لپ دنیا بھر میں اب بھی تقریباً 65 کروڑ 50 لاکھ افراد، یعنی عالمی آبادی کا 8 فیصد حصہ، بجلی کی سہولت سے محروم ہے، جن میں اکثریت سب صحارا افریقہ کے ممالک میں رہتی ہے۔شنہوا کے مطابق بدھ کو جاری ہونے والی "پائیدار ترقیاتی ہدف 7: توانائی کی پیش رفت رپورٹ” میں بتایا گیا ہے کہ اس کے علاوہ 1.8 ارب افراد اب بھی کھانا پکانے کے لیے آلودگی پھیلانے والے ایندھن اور ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں، جس سے ان کی صحت اور معیارِ زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سب صحارا افریقہ توانائی کی سہولیات کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر خطہ ہے، جہاں 56 کروڑ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں جبکہ 97 کروڑ افراد کو صاف اور محفوظ کھانا پکانے کی سہولیات دستیاب نہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 2030 تک توانائی تک عالمی رسائی کے ہدف کے حصول کے لیے اس خطے میں بجلی کی فراہمی کی رفتار کو تین گنا بڑھانا ہوگا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشکلات کے باوجود قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں حوصلہ افزا پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ عالمی سطح پر بجلی کے مجموعی استعمال میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 30 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا 2030 تک سستی، قابلِ اعتماد، پائیدار اور جدید توانائی کی عالمی رسائی کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جاری عالمی توانائی بحران کے اثرات توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت پر بھی نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔رپورٹ میں مضبوط سیاسی قیادت، مختلف شعبوں کے درمیان بہتر تعاون اور پسماندہ ممالک و برادریوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ واضح توانائی پالیسیوں، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری اور درآمدی فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی امور کے انڈر سیکریٹری جنرل، لی جونہوا نے کہا کہ حالیہ برسوں میں صاف، قابلِ اعتماد اور سستی توانائی تک رسائی میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، لیکن لاکھوں افراد اب بھی بنیادی توانائی سہولیات سے محروم ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ عالمی توانائی بحران صاف توانائی کی جانب منتقلی کو تیز کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، جس سے توانائی کے تحفظ کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کرے، کیونکہ پائیدار توانائی کے اہداف کے حصول کے لیے فوری اور بھرپور اقدامات ناگزیر ہیں۔









