اقوام متحدہ: عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی نظام اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنانا ہوگا
کثیرالجہتی نظام کو سنگین چیلنجز درپیش ہیں، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔25جون (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں کثیرالجہتی نظام (ملٹی لیٹرل ازم) کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، اور عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون اور باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
شنہوا کے مطابق جنوبی کوریا میں منعقدہ 21ویں جیجو فورم برائے امن و خوشحالی سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے گوتریس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور اور مشترکہ انسانی اقدار سے اپنی وابستگی کا ازسرنو اعادہ کرے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس وقت تنازعات، غربت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عالمی چیلنجز کا سامنا ہے، جن کا حل صرف بین الاقوامی تعاون اور مؤثر کثیرالجہتی نظام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔فورم سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل Ban بان کی مون Ki-moon نے بھی اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے کمزور ہوتے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کیا۔بان کی مون نے کہا کہ انہیں اس بات پر شدید افسوس ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹر مپ نے امریکاکو متعدد اقوام متحدہ سے وابستہ اور بین الاقوامی تنظیموں سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور اور وسائل سے مالا مال کیوں نہ ہو، تنہا ترقی نہیں کر سکتا۔واضح رہے کہ جیجو فورم کا آغاز 2001 میں امن اور خوشحالی کے فروغ کے مقصد کے تحت کیا گیا تھا، اور یہ عالمی رہنماؤں، ماہرین اور پالیسی سازوں کے درمیان اہم بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کا ایک نمایاں پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔








